ایرانی اسکالر کو سوسائٹی آف پٹرولیم انجینئرز کے تمغے سے نوازا گیا

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے اسکالر "حمید امامی میبدی" کو سوسائٹی آف پٹرولیم انجینئرز کے "سڈریک فرگوسن" تمغے سے نوازا گیا۔

ایران کے تیل اور قدرتی گیس کے شعبے میں سرگرم اسکالر حامد امامی میبدی کو 2018 میں سوسائٹی آف پٹرولیم انجینئرز میں شائع ہونے والے بہترین مضمون کو لکھنے پر اس سوسائٹی کے سڈریک فرگوسن تمغے سے نوازاگیا۔

 قدرتی تیل اور گیس کے شعبے کے سالکر "مائیکل کرونن" اور "رسل جان" جنہوں نے میبدی کو اس مضمون کو لکھنے کی تعاون کی تھی، بھی بالترتیب سڈریک فرگوسن میڈل اور سرٹیفیکیشن حاصل کی۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ پٹرولیم انجینئرنگ کے شعبے میں پیشہ ورانہ کامیابیوں کو سراہنے کے لئے اس میدان کے بہترین مضامین کے مصنفین جن کی عمر 35 سال سے کم ہے، کو سڈریک فرگوسن میڈل دیا جاتا ہے۔

36 سال سے زیادہ عمر کے سرفہرست مصنفین کو بھی سڈریک فرگوسن سرٹیفیکیشن دیا جاتا ہے۔

حامد امامی میبدی جو کینیڈا کی کیلگری یونیورسٹی اور ایران پیٹرولیم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور اب وہ پینسلوانیہ اسٹیٹ یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں، نے اب تک 30 سے زیادہ تکنیکی مضامین شائع کیے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 4 =