ایران سے ریلوے تعاون کو فروغ دینے کی پاکستانی کوششیں جاری ہیں

اسلام آباد،ارنا- رواں سال کے مارچ مہینے کے دوران، پاکستان کے وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک خطے میں اور بالخصوص ایران سے ریلوے تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ اب پاکستانی وزارت ریلوے کے ایجنڈے میں ہے اور اس کا مقصد ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی توسیع، علاقائی تجارت اور سیاحت کے فروغ سمیت تہران- اسلام آباد ایکو مال بردار ٹرین کی بحالی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم "عمران خان" نے 29 مارچ کو صوبے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بنیادی ڈھانچے کے کچھ منصوبوں کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان، "کوئٹہ- تفتان" ریلوے لائن کی تکمیل کرے گی اور اس کا مقصد بھی ایران کیساتھ ریلوے تعلقات کی توسیع ہے۔

پاکستان کے وزیر ریلوے "شیخ رشید احمد" نے بھی حالیہ مہینوں کے دوران، دونوں ملکوں کے درمیان ریلوے تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، ایرانی ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے اپنی مصنوعات کو یورپی ریاستوں اور وسطی ایشیائی ممالک کو ترسیل کر سکتا ہے.

شیخ رشید احمد جو گزشتہ سال کے مارچ مہینے کے دوران ایران میں قزوین- رشت ریلوے لائن کی افتتاحی تقریب میں حصے لینے کیلئے جمہوریہ اسلامی ایران کا دورہ کیا تھا، نے اس بات پر زوردیا کہ ایران اور پاکستان کو مل بیٹھ کر تفتان، کوئٹہ اور چابہار، گوادر بندرگاہوں کے درمیان ریلوے لائن کے قیام کے لئے تعاون کرنا ہوگا.

اس رپورٹ کے مطابق، پاکستانی وزرات ریلوے نے ایک ایسے منصوبے کے آغاز کا اعلان کردیا ہے جس کا مقصد ایران سے ریلوے تعاون کو فروغ اور اسے ترکی (مال بردار ایکو ٹرین کی بحالی) اور یورپ تک توسیع دینے کا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ نے آج بروز بدھ کو پاکستانی وزرات ریلوے میں باخبر ذرائع کے مطابق کہا ہے کہ "ایم اے ایل 3 " ریل منصوبے کے لئے فزیبلٹی رپورٹ تیار کی گئی ہے جس کے تحت صوبہ بلوچستان میں ایک خصوصی ریلوے لائن تعمیر کی جائے گی  جس کی 612 کلومیٹر تفتان بارڈر (ایران کے میرجاوہ بارڈر کراسنگ) تک تک پھیلے گی۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں ایک نئے ریل منصوبے کے آغاز کے ساتھ ہی نہ صرف ایران، ترکی اور یورپی ممالک کے ساتھ علاقائی تجارت میں نئی جان پھونک دی جائے گی بلکہ اسلام آباد - تہران - استنبول مال بردار ٹرین کو دوبارہ بحال کرنے کا موقع فراہم ہوجائے گا جس سے مسافروں اور سیاحوں کے سفر میں آسانی ہوگی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 4 =