سویڈن کیساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات بڑھانے کیلئے پرعزم ہیں: ایرانی صدر

تہران، ارنا – ایران کے صدر مملکت نے کہا ہے کہ ہم سویڈن کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات بڑھانے کے لئے پر عزم ہیں.

یہ بات "حسن روحانی" نے منگل کے روز ایران میں تعینات سویڈش نئے سفیر "ماتیاس لنتز" کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر سویڈن کے نئے سفیر نے اپنی اسناد تقرری کو صدر روحانی کو پیش کیا۔
صدر روحانی نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں حکام کی کوششوں کے ساتھ عوام کے مفادات کی فراہمی کے لئے تہران اور اسٹاک ہوم کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کو مزید فروغ ملیں گے.
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ امریکی غیرقانونی پابندیوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان صنعتی شعبے سمیت نقل و حمل میں باہمی تعاون کو جاری رکھیں گے.
انہوں نے جوہری معاہدے کے تحفظ کے لئے سویڈن کے موقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جوہری وعدوں پر قائم ہے اور ہماری پرامن جوہری سرگرمیوں پر عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی کو جاری رکھے گا.
ایرانی صدر نے کہا کہ جوہری وعدوں کی کمی لانا اس عالمی معاہدے کے فریم ورک کے مطابق ہے اور جب دوسرے فریقین اپنے وعدوں پر عمل کریں تو ہمارے اقدامات قابل واپسی ہوں گے.
سویڈش نئے سفیر نے کہا کہ آج سویڈن کے اقتصادی کارکن اور کمپنیاں اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک مناسب شراکت دار ملک مانتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ باہمی تعاون کے ساتھ سیاسی، تجارتی، اقتصادی، سائنسی اور تعلیمی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دے سکتے ہیں.
لنتز نے کہا کہ ہم علاقائی حالیہ تبدیلیاں اور تنازعات کی کمی کے حوالے سے ایران کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں اور سوئڈن ہمیشہ جوہری معاہدے کی حمایت کرکے فریقین کی جانب سے اپنے وعدوں پر قائم رہنے پر زور دے رہا ہے.
انہوں نے کہا کہ ہم ایران مخالف امریکی یک طرفہ پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ جس کے نتیجے میں برے اثرات مرتب ہوگئے ہیں.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے IrnaUrdu@.

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 4 =