پاک ایران عوامی تعلقات ایک عظیم اثاثہ، ان کا فائدہ اٹھایا جائے: صدر روحانی

تہران، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان دیرینہ تعلقات کو قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید بڑھانے کی اشد ضرورت ہے.

یہ بات ڈاکٹر حسن روحانی نے آج بروز منگل ایران کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی آرمی چیف جنرل "قمر جاوید باجوہ" کے ساتھ ملاقات کرتے ہو‏‏‏ئے کہی.
صدر روحانی نے مزید کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے قریبی مراسم اور عوامی رابطوں سے دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو بڑھانے کے لئے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ہم گیس پائپ لائن کو پاکستانی سرحد تک لائے ہیں اور اس منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لئے بھی مکمل آمادہ ہیں.
ایرانی صدر نے کہا کہ ہم کو دونوں مماک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ کے راستے میں موجودہ حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا.

حسن روحانی نے دونوں ممالک کی سرحدوں کی سلامتی پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اسمگلنگ کی لعنت اور اسمگلروں سے مقابلہ کے لیے باہمی تعاون کر سکتے ہیں.

٭٭کوئی بھی ملک ایران اور پاکستان کے تعلقات کو متاثر نہیں کرسکتا

اس ملاقات میں پاکستانی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک ایران اور پاکستان کے تعلقات کو متاثر نہیں کرسکتا ہے لیکن آج ہم بعض مسلم ممالک اور بھائیوں کے درمیان جنگ کا  مشاہدہ کر رہے ہیں لہذا ہمیں ان مسلم ممالک کو قریب لانے کے لئے کوشش کرنی ہوگی.

انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کو دو دوست اور پڑوسی ممالک کی حیثیت سے اپنے باہمی اتحاد اور بھائی چارے کو دنیا میں دیکھانا ہوگا.

پاکستانی آرمی چیف گزشتہ روز ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے، جنہوں نے ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل "محمد باقری" اور ایرانی آرمی سپہ سالار میجر جنرل "سید عبدالرحیم موسوی"کے ساتھ ملاقات کی ہے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ پاکستانی آرمی چیف کا دوسرا سرکاری دورہ ایران ہے انہوں نے اس سے پہلے اکتوبر مہینے میں ایران کا دورہ کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 2 =