شمخانی کی پاکستانی سپہ سالار سے ملاقات، پڑوسی ممالک ایران کی ترجیح قرار

تہران، ارنا - ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ علاقائی ممالک بالخصوص ہمسایوں کے ساتھ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید بڑھانا اسلامی جمہوریہ ایران کی اہم ترجیح ہے.

یہ بات ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے ایڈمیرل ' علی شمخانی' نے آج بروز منگل نے تہران میں ایران کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی آرمی چیف جنرل "قمر جاوید باجوہ" کے ساتھ ملاقات کرتے ہو‏‏‏ئے کہی.
شمخانی نے اس ملاقات میں یمن کے خلاف جاری سعودی جارحیت کا مسئلہ اٹھایا.

انہوں نے امریکہ کی حکمت عملی کو اسلامی ممالک میں تنازعہ اور اختلاف پیدا کرنا ہے لیکن ایران کا نقطہ نظر علاقائی ممالک بالخصوص اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

شمخانی نے کسی بھی تشدد آمیز کارروائی سے نمٹنے کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان اجتماعی تعاون کی ضرورت پر زور دیا.

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان اختلاف اور تفرقہ ڈالنے سے امریکہ کے مقصد کو صیہونی حکومت کی سلامتی کا قیام اور واشنگٹن کے اثر و رسوخ کا پھیلاؤ  قرار دیتے ہوئے کہا کہ  اسلامی جمہوریہ ایران کا اسٹریٹجک نقطہ نظر خطی ممالک بالخصوص اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا ہے جو پاکستان کو اس سلسلے میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔

انہوں نے خطے میں پائیدار سلامتی پیدا کرنے کے فریم ورک کے اندر ایران اور پاکستان کے درمیان کثیر الجہتی تعلقات خاص طور پر سیکورٹی،اقتصادی اور فوجی کے شعبوں میں باہمی تعلقات کو گہرےبنانے پر زور دیا.

ایرانی جنرل نے سرحدی صوبوں کے باشندوں کی خوشحالی کی فراہمی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس شعبے میں باہمی تعاون کی توسیع دینے پر مکمل آمادہ ہیں.

انہوں نے یمنی نہتے عوام کے خلاف سعودی عرب کی کھلی جنگ کو خطے میں بدامنی پیدا کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے لیے ایک  واضح مثال قراردیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کو سعودیوں پر دباؤ ڈال کر کے جلد از جلد اس وحشتناک نسل کشی کا خاتمہ کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

اس موقع میں پاکستانی آرمی چیف نے ایران کے دورے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں.

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج  سرحدی علاقوں میں کسی بھی بدامنی کے واقعات سے مقابلے کرنے کے لیے سنجیدہ آمادہ ہے.

انہوں نے امت مسلمہ کے درمیان جنگ، تفرقہ اور بدامنی کو ہوا دینے کے لیے غیر علاقائی ممالک کی سازش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا  کہ اس خطرناک سازش، جس کا واحد نتیجہ اسلامی ممالک کے مالی اور انسانی وسائل کی تباہی ہے، سے مقابلہ کرنا آج اسلامی دنیا کی سب سے اہم ترجیح ہے۔

انہوں نے فلسطینی عوام اور حکومت سے ایرانی حکومت کے مستحکم موقف کی تعریف کی.

پاکستانی آرمی چیف گزشتہ روز ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے، جنہوں نے ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل "محمد باقری" اور ایرانی آرمی سپہ سالار میجر جنرل "سید عبدالرحیم موسوی"کے ساتھ ملاقات کی ہے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ پاکستانی آرمی چیف کا دوسرا سرکاری دورہ ایران ہے انہوں نے اس سے پہلے اکتوبر مہینے میں ایران کا دورہ کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 11 =