ایران دنیا میں امن اور دوستی کا علمبردار ہے

تہران، ارنا - ایران میں منعقدہ 33 ویں عالمی اتحاد امت کانفرنس کے پہلے کمیشن میں شریک غیرملکی طلبا نے اسلامی جمہوریہ ایران کو دنیا میں امن اور دوستی کا علمبردار ملک قرار دے دیا.

تفصیلات کے مطابق، ایران منعقدہ 33 ویں عالمی اتحاد امت کانفرنس کے پہلے کمیشن میں شرکت کے لئے تہران میں آئے ہوئے پاکستانی اور بھارتی طلباء نے ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو میں ایران کو اپنے دوسرا وطن قرار دے کر کہا کہ اس ملک میں مثالی سیکورٹی قائم ہے.
کشمیر کے شہر جامو سے تعلق رکھنے والا "کوثر علی جعفری" نے میلاد النبی (ص) کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اتحاد امت کانفرنس اسلامی دنیا کے لئے رہ گشا ثابت ہوسکتی ہے جس میں مختلف مسلم ممالک کے طلباء نے مقبوضہ ممالک سمیت فلسطین، یمن، عراق اور کشمیر کی خودمختاری اور ان کے خلاف ظلم اور جبر کو روکنے کے لئے شرکت کی ہیں.
جعفری نے کہا کہ ایران ہمارا دوسرا وطن ہے اور ہم نے شہر مذہبی قم میں اپنی تعلیم مکمل کرلئے ہیں.
انہوں نے ایران اور بھارت کے درمیان دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہزار سالہ پرانے بالخصوص ثقافتی تعلقات قائم ہیں.
کشمیر طالب علم نے کہا کہ ایران میں مختلف ادیان کے پیروکار امن کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں جس ملک میں ان کے لئے تعلیمی، رہائشی اور روزگار کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں حتی کہ جامعہ المصطفی العالمیہ ادارے میں بہت ہی سنی طلباء زیر تعلیم ہیں.
انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا ایران کے حقیقی چہرے چھپانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں مگر ہم نے ایرانی شمالی شہر رشت اور ساری کی سیر کرتے ہوئے جنوبی علاقے میں راہیان نور میں شرکت کی ہیں جن علاقوں میں ایرانی عوام کی مہمان نوازی اور گرمجوشی کا سامنا تھے.
ایک اور خاتون پاکستانی طالب علم "صالحہ بتول" نے کہا کہ امت مسلمان ایک دوسرے سے الگ الگ نہیں ہے، وہ سب ایمان، دین،مذہب اور نبی (ص) میں ایک ہیں اور جدا نہیں ہیں اسی لئے عالمی اتحاد امت کانفرنس علاقائی مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات کو روکنے کے لئے اہم کردار ادا کرسکتی ہے.
صالحہ بتول نے کہا کہ مختلف ممالک کے طلباء ایرانی یونیورسٹیوں میں آسانی سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ایرانی حکومت ان کے لئے مثالی سہولیات سمیت ہوسٹل اور اسکالرشپ فراہم کرتی ہے.


ایرانی تہران میڈیکل سائنس یونیورسٹی میں زیر تعلیم بھارتی خاتون نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمارے لئے ایک بہشت کی طرح ہے اور اس ملک کے ہرجگہ میں شہداء کا لہو بہہ رہا ہے.
قرہ العین رضوی نے کہا کہ ایران میں حجابدار اور بے حجاب خواتین کے درمیان کوئی فرق موجود نہیں ہے اور اس ملک میں تمام مذاہب اور اقلیتوں کے تمام پیروکار مل کر آرام سے رہتے ہیں۔


یاد رہے کہ 33 ویں عالمی اتحاد امت کانفرنس کے پہلے کمیشن کا بدھ کے روز ایرانی دارالحکومت تہران میں انعقاد کیا گیا جس میں 25 ممالک کے 120 طلباء نے شرکت کی.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 11 =