صہیونی حکومت کے خاتمے سے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین واپس ملے گی: آیت اللہ خامنہ ای

تہران، ارنا - سپریم لیڈر ایران نے فرمایا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں ناجائز صہیونی حکومت کے خاتمے کی صورت میں ہی فلسطینیوں بشمول مسلمان، عیسائی اور یہودیوں کو ان کی حقیقی سرزمین واپس ملے گی.

ان خیالات کا اظہار آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے جمعہ کے روز ایرانی حکومت کے عہدیداروں اور ایران میں منعقدہ 33 ویں عالمی اتحاد امت کانفرنس کے مہمانوں سے ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ آج عالم اسلام کے مصائب بالخصوص فلسطین کی افسوسناک صورتحال کی اصل وجہ امت مسلمہ کے درمیان اتحاد کا فقدان ہے.

آیت الله خامنه ای نے مزید فرمایا کہ فلسطین کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بنیادی اور اصولی ہے۔

 سپریم لیڈر نے فرمایا کہ بانی اسلامی انقلاب حضرت امام خمینی (رح) نے انقلاب کی کامیابی سے پہلے صہیونیوں کے عزائم اور اس کے ظلم کے بارے میں ہم سب کو خبر دار کیا تھا.

آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ ایران نے بھی اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی دنوں میں تہران میں صہیونی مرکز کو فسطینیوں کا حوالہ کر دیا۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ یہ ایک حقیقی کام تھا اور ایک علامتی کام بھی تھا۔ ہم نے فلسطینیوں کی مدد کی ہے اور اب بھی ان کی مدد کر رہے ہیں، ہمیں اس حوالے سے کوئی پرواہ نہیں ہے اور پوری اسلامی دنیا کو بھی ایسا کرنا چاہئے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اس بات پر روشنی ڈالی  کہ بانی اسلامی انقلاب اور ایرانی حکام کے بیانات میں جب "ناجائز صہیونی ریاست کی تباہی" پر بات ہوتی ہے تو اس کا مطلب عیسائی برادری کی تباہی نہیں بلکہ اس سے مراد صہیونی ریاست اور اس کی حکمرانی کی تباہی ہے۔

قائد اسلامی انقلاب نے فرمایا ہے کہ ناجائز صہیونی ریاست کی تباہی سے مراد یہ ہے مقبوضہ فلسطین کے اصل حکمران یعنی فلسطینی عوام، خود اپنی حکومت کا انتخاب کریں اورغاصب افراد جیسے نیتن یاہو کی حکمرانی کا خاتمہ دیں جس طرح کے بلقان ملک بھی ایسا ہوا اور اس میں 60 سالوں کے بعد آزادی کی حصول ہوئی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ خواہش فلسطینیوں کے لئے ان کے ملک کی آزادی ہے. ہمارا عیسائی برادری سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ وہ ایران میں ایک پرسکون اور پرامن ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 4 =