14 نومبر، 2019 10:14 AM
Journalist ID: 1917
News Code: 83554653
0 Persons
خطی مسائل کو خطی عوام کے ذریعے ہی حل کرنا ہوگا: صدر روحانی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے کہا کہ خطی مسائل کو خطی عوام ہی کے ذریعے حل کرنا ہوگا کیونکہ غیر خطی ممالک علاقائی مسائل کو حل کرنے کے بجائے اس کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر حسن روحانی نے جمعرات کے روز دارالحکومت تہران میں منعقدہ 33 ویں عالمی اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے سب کو رسول اکرم ( ص) اور حضرت امام صادق (ع) کی یوم ولادت اور ساتھ ساتھ ایران میں ہفتہ وحدت کی آمد پر مبارکباد دیتے ہوئے کانفرنس میں شریک تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ 33 ویں عالمی اتحاد امت کا ایجنڈا عالم اسلام کے اہم ترین موضوعات میں سے ایک ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ اگر چہ اسلام کے دشمن عناصر حالیہ برسوں میں فلسطین اور القدس کے مسئلے کو مسلم دنیا کے سب سے اہم اور بنیادی مسئلے سے ہٹانے اور یہاں تک کہ اسے فراموش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن عالم اسلام میں رائے عامہ اور علمائے کرام نے انھیں اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانےکی اجازت نہیں دی ہے۔

 ایرانی صدر مملکت نے مزید کہا کہ حالیہ دہائیوں میں انہوں نے مسلمانوں کیخلاف جو سب سے اہم منصوبہ تیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ مسلم دنیا کے ساتھ دیرینہ دشمنی رکھنے والی طاقتوں کے معاملے کو پروان چڑھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ برسوں کے دوران مغربی ممالک اور بالخصوص امریکہ نے مسلم دنیا کو کن کن جرائم کا نشانہ بنایا ہے، کو بھولنے کی تمام کوششیں کی گئیں ہیں۔

صد روحانی نے کہا کہ اسلام دشمن عناصر کیجانب سے تمام تر کوششیں کی جارہی ہیں تا کہ فلسطین کی مقدس سرزمین کو قبضہ کیے جانے کے مسئلے اور علاقے اور دنیا میں لاکھوں فلسطینی مسلمان کے بے گھر ہونے کے مسلئے کو بھول جائیں اور ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کو اپنے وطن اور مادر وطن کی واپسی کے لئے مسلم عزم کی اہمیت کو کم کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے اس شوم مقاصد تک پہنچنے کیلئے کچھ کامیابیاں حاصل کیں تاہم خوش قسمتی سے وہ اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے میں بُری طرح ناکام ہوگئے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ان کی خواہش یہ تھی کہ علاقے کے تمام مسلمانوں اور حتی فلسطینی عوام کے نقطہ نظر میں ناجائز صہیونی ریاست کو بطور خطے کے ایک معمولی اورعام ملک کے پیش کریں حتی کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ نے فلسطین کے مسئلے کو پیسیوں کے ذریعے سمجھوتے کرنے کی کوشش کی اور اس کا نام "ڈیل آف سینچری" رکھا۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ حتی کہ ان کو القدس الشریف کو غاصبوں کے دارالحکومت کے طور پرمتعین کرنے کا ارداہ تھا جو بالکل ناکام ہوگئے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 3 =