13 نومبر، 2019 2:27 PM
Journalist ID: 2393
News Code: 83553779
0 Persons
ایران کی بولیویا میں امریکی مداخلت کی مذمت

تہران، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے لاطینی امریکی ملک بولیویا کی حالیہ صورتحال سے متعلق غیرملکی مداخلت بالخصوص امریکی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے حکومتی معاملات میں جبری مداخلت اور صدر کے خلاف فوجی بغاوت جیسی سرگرمیوں پر کڑی تنقید کی ہے.

ان خیالات کا اظہار سید عباس موسوی نے گزشتہ روز بولیویا کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے بولیویا کے قانونی صدر کے خلاف بغاوت میں امریکی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قانونی ڈھانچے سے باہر اور جبر سے حکومتوں کی کسی بھی تبدیلی خاص طور پر غیر ملکی مداخلت ناقابل قبول ہے.

موسوی نے کہا کہ ایران کا خیال ہے کہ حکومتوں میں کسی بھی تبدیلی قانون کے فریم ورک کے اندر اور بيلٹ باكس اور عوام كے ذريعے ہونی چاہیے.

ایرانی ترجمان نے کہا کہ امید ہے کہ بولیویا کے عوام اور مختلف سیاسی حلقوں اپنے ملک کی سیاسی اور قانونی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انتشار، تشدد اور تنازعات کا سہارا کے بغیر اس موجودہ نازک صورتحال سے گزرنے لیے ایک پرامن حل تک پہنچیں.

تفصیلات کے مطابق 20 اکتوبر کو بولیویا کے صدارتی انتخابات میں بولیویا کے صدر ایوو مورالس نے پہلے دور میں کامیابی حاصل کی لیکن کے مرکزی حریف نے اس کی کامیابی کو تسلیم نہیں کیا۔ اتوار کے روز بولیویا کی مسلح افواج نے مورالس سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کے استحکام کو یقینی بنانے کے لئے مستعفی ہوجائیں.جس کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کیا۔

اس ایونٹ کے بعد مستعفی ہونے والے صدر مورالیس نے میکسیکو کی طرف سے سیاسی پناہ کی  پیشکش قبول کرلی.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@.

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 15 =