ایران، شام سے تجارتی تعلقات کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کیلئے پُرعزم

تہران،ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آئندہ 2 سالوں تک شام کیساتھ تجارتی تعلقات کو 50 کروڑ سے ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔

 ان خیالات کا اظہارایران اور شام کے مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ "کیوان کاشفی" نے منگل کے روز عالمی تجارتی تنظیم میں شامی کاروباری مواقع سے متعلق منعقدہ کانفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال کے دوران 10سے زائد اقتصادی وفدوں کا دونوں ممالک کے درمیان تبادلہ ہوا لیکن یہاں سب سے بڑا مسئلہ وہی سرگرم اقتصادی کارکنوں کیلئے صحیح طرح سے معلومات کی فراہمی ہے۔

کاشفی نے ایران اور شام کے درمیان 2 ہزار کلومیٹر سے کم فاصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان زمینی آمد و رفت کی سہولیات کی فراہمی کی صورت میں ہم آسانی سے شامی مارکیٹ سمیت دوسرے خطی ممالک کی مارکیٹس سے منسلک ہوجائیں گے جو شاہراہ ریشم کے ایک حصے بھی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ اور اندرونی بحران سے پہلے شامی آمدنی ذرائع کے دو اہم عنصر تیل کی برآمدات اور سیاحتی صنعت تھے۔

کاشفی نے کہا کہ شام کو مصنوعات کی برآمدات کے حوالے سے بہت اچھی پوزیشن حاصل تھی حتی کہ وہ عراقی مارکیٹ میں اسلامی جمہوریہ ایران کا سب سے بڑا رقیب سمجھایا جاتا تھا۔

انہوں نے شام کی حالیہ تجارتی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کل ایرانی کمپنیاں، شام میں بنیادی انفراسٹکچر کی فراہمی، توانائی اور از سرنو تعمیر کے حوالے سے سرگرم عمل ہیں۔

کاشفی نے ایران اور شام کے درمیان تجارتی معاہدے پر دستخط کو دونوں ملکوں کے تجارتی اور اقتصادی تعقات میں تیزی لانے کیلئے بہت بڑا موثر قرار دے دیا۔

ایران اور شام  کے مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ نے دمشق کی حالیہ ایکسپو نمائش اور شام کی از سرنو تعمیر میں ایرانی کمپنیوں کی فعال موجودگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نمائش میں ایران کی 120 کمپنیوں نے حصہ لیا تھا جس میں گزشتہ دور کے مقابلے میں 4 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 4 =