عالمی جوہری ادارے کی رپورٹ سیاسی نہیں ہونی چاہئے: ایرانی سفیر

لندن، ارنا - ویانا میں قائم بین الاقوامی اداروں میں تعینات ایران کے مستقل مندوب نے عالمی جوہری توانائی ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاسی اہداف کی بنیاد پر اپنی رپورٹس کو متاثر نہ ہونے دے.

یہ بات کاظم غریب آبادی' نے پیر کے روز صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے جوہری معاہدے پر ایران کی دیانتداری سے متعلق عالمی جوہری ایجنسی کے ابتدائی فیصلہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی جوہری ادارے کو سیاسی تحفظات کے موضوعات کو سیاسی مقاصد سے بولڈ نہیں کرنا چاہیے.
غریب آبادی نے آئی اے ای اے کی اس نئی رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ ایران نے جوہری معاہدے کے تحت حقوق اور فریقین کی ذمہ داریوں کے درمیان توازن رکھنے کے لئے اپنے کچھ وعدوں کو معطل کردیا ہے لیکن اس عالمی ادارے کو ایران کے جوہری پروگرام کے معائنے کی مکمل رسائی حاصل ہے.
انہوں نے کہا کہ جب کہ جوہری توانائی ایجنسی نے ایران کو مطلع کیا کہ کسی خاص مقام کے بارے میں اس کے کچھ سوالات ہیں، ایران نے قبول کردیا کہ ملک کی جوہری سرگرمیوں کی شفافیت اور دیانتداری کی تصدیق کے لیے اس ایجنسی کے ساتھ مثبت تعاون اور گفتگو کرے.
ایرانی سفیر نے کہا کہ پھر ایران کے اس موضوع کے حوالے سے کسی بھی کچی بات اور ابتدائی فیصلہ سیاسی اغراض سے ہوگا.
انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے اور ممبر ممالک کے درمیان اس طرح کے سوالات کرنا ایک عام کا عمل ہے اور اگر دونوں فریقین باہمی تعاون چاہتے ہیں تو سیاسی مقاصد کے ساتھ اس معاملے کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے.
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے عبوری سربراہ "کورنل فروتا" نے پیر کے روز جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی وعدوں کی کمی کا چوتھے فیصلے سے متعلق ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کردیا کہ ایران کو کسی مقام کے بارے میں جوہری توانائی ادارے (IAEA) کے سوالات کا بھرپور اور حتمی جواب دینا ہوگا.
تفصیلات کے مطابق IAEA نے جوہری معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اپنی 16 رپورٹوں میں جوہری معاہدے میں ایران کی دیانتداری کی توثیق کردی ہے تاہم مئی 2018 میں فریقین کی تمام کوششوں کے باوجود صدر ٹرمپ نے امریکہ کو جوہری ڈیل سے علیحدہ کر کے ایران پر دوبارہ عائد پابندیوں کو دوبارہ نافذ کردیا.
قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین کی خاجہ پالیسی کی سربراہ 'فیڈریکا مغرینی' نے گزشتہ روز بروسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے اختتام میں کہا کہ جوہری معاہدے کے تحفظ میں دشواری کے باوجود ہم اس معاہدے پر قائم رہیں گے'۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 13 =