ایران سعودی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے: پاکستان

تہران، ارنا- پاکستان اور ایران کے پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کے سربراہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدکی کو کم کرنے کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔

ان خیالات کا اظہار ایران کے دورے پر آئے ہوئے پاک ایران پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کے سربراہ "سید نوید قمر" نے ارنا نمائندے کیساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

***ایران اور سعودی عرب کے درمیان پاکستان کا ثالثی کردار

 انہوں نے حکومت پاکستان کیجانب سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے اور وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورے ایران سے متعلق کہا کہ سب سے اہم اور پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے جس میں شیعے لوگ رہتے ہیں اور سنی لوگ بھی رہتے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کے ایران کیساتھ تاریخی تعلقات اور مشترکات ہیں اور ساتھ ساتھ مشرق وسطی کے ممالک کیساتھ بھی پاکستان کے تعلقات بجائے خود برقرار ہیں لہذا اگر ان ممالک کے درمیان کشیدگی ہو یہ پاکستان کے مفادات میں بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی بات کے پیش نظر پاکستان نے ہر وقت ان ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور ان ممالک کو آپس کے قریب لانے کیلئے کوششیں کی ہیں تا ہم ابھی یہ کوششیں کھلے طور سامنے آئی تھی جی طرح کے حالیہ دنوں میں سامنے آئی ہیں۔

نوید قمر نے مزید کہا کہ اس حوالے سے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کافی کوشش کی ہے اور اسی سلسلے میں انہوں نے اکتوبر مہینے میں ایران کا دورہ کیا تھا لیکن اس حوالے سے کتنی پیشرفت سامنے آئی ہے یہ ایک بہت محدود گروپ ہے جن کو اس حوالے سے علم ہے اور جب تک یہ عوام کے سامنے پیش نہ ہوگا ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ کتنی پیشرفت سامنے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیشرفت زیادہ تر ایران اور سعودی عرب کے پرنسپل پارٹی سے وابستہ ہے کہ وہ کتنا اس کام کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

نوید قمر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کیلئے اپنی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

***پاک ایران تجارتی تعلقات کا فروغ

 انہوں نے ایران اور پاکستان کے تجارتی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کے مقاصد میں سے ایک بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھانا ہے اور یہاں یہ بات بتانا لازمی ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کا حجم اعلان کیے گئے سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ اس تجارت کا کچھ حصے تو اسمگلرز اور غیرسرکاری تجار کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ان سے ایران اور پاکستان سے زیادہ ان اسمگلرز کو فائدہ حاصل ہوگا۔

 نوید قمر نے کہا کہ بہ ہر صورت اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ دوسرے ممالک کے عوام کو ان مصنوعات کی ضرورت ہے لہذا دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ ان ضروتوں کو سرکاری طور پر پورا کرنے کی کوشش کریں بجائے اس کے ان کو غیر سرکاری طور پر فراہم کیا جائے۔

 انہوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ ہمارا جو انفراسٹکچر ہے اس کو ہمیں آپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے مثلا اگر ٹرین کے ذریعے مصنوعات کو منتقل کیا جاتا ہے ان ٹرینز کو ہم آہنگ بنایا جائے تا کہ سرحدوں میں سامان کی لوڈنگ اور اترائی میں کوئی مسئلہ سامنے نہ آئے۔

اس کے بعد ضرورت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف اور نان ٹیرف بیریئر کو ختم کریں اور بعض مصنوعات پر لگائی گئی ٹیرف کو عقلانی بنایا جائے کیوکنہ مثلا چاول پر لگائی گئی ٹیکس بہت زیادہ ہے لہذا اگر اس کو کم نہ کریں تو بجائے سرکاری طور پر درآمدات اور برآمدات کا عمل تو یہ غیر سرکاری طور اور اسمگلرز کے ذریعے ہو جائے گا تو بہتر ہے کہ ہم اس کی ٹیرف کو مناسب حد تک لے آئے تا کہ سرکاری تجارت بڑھتا رہے۔

 نوید قمر نے کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان اور ایران دو ہمسایہ ممالک ہیں جن کے درمیان طویل زمینی سرحدیں پھیلی ہوئی ہے اور کیونکہ زمینی راستے کے ذریعے مصنوعات کی منتقلی اور درآمدات اور برآمدات کا عمل، سمندری یا کہ ہوائی راستے سے سب سے زیادہ سستا اور آسان ہے لہذا ہمیں چاہییے کہ ان زمینی سرحدوں کا استعمال کریں۔

***سرحدی بازاروں کی رونقیں بڑھانے کا عمل جاری ہے

پاکستان پارلیمانی گروپ کے سربراہ نے تفتان سرحدی علاقے میں سحدی بازاروں میں رونقیں بڑھانے سمیت "ریمدان"، "کوہک" اور "پیشین" میں سرحدی بازاوں کے قیام سے متعلق اتھائے گئے اقدامات سے متعلق کہا کہ ابھی تفتان سرحد پر جو کراسنگ ہے وہ سب سے زیادہ ڈیولوپ ہے تو ضرورت ہے کہ اس سے شروعات کریں باقی جو دو اور کراسنگز ہیں پہلے تو ان کو اس کراسنگ سے اسٹبلیش کریں جو بھی ہمارے امگریشن اور کسٹم اور آفیشلز ہیں اور پھر ان کی تعنیاتی کریں اور بعد وہاں بازاروں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سرحدی بازاروں کا قیام، دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے اور قریب لانے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ ابھی پہلا قدم ہے اور دیڑھے دیڑھے اس میں مزید تیزی آئے گی۔

انہوں نے میرجاوہ میں آزاد تجارتی علاقے کے قیام کے حوالے سے کہا کہ کہ ان کے ان منصوبے کے جزئیات سے علم نہیں لیکن جہاں جہاں دونوں ممالک کے درمیان سرحدیں ہیں وہاں پر کوشش کی جاتی ہیں کہ ان پر سرحدی بازاروں کا بند و بست کیا جائے۔

*** مشترکہ سرحدوں میں قیام امن و سلامتی کو یقینی بنانے کا پختہ عزم

انہوں نے مشترکہ سرحدوں پر امن و سلامتی کو اور یقینی بنانے کیلئے دونوں ممالک کیجانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے کہا کہ ایران اور پاکستان کی حکومتوں نے اس حوالے سے ایک دوسرے کیساتھ رابطے میں ہیں اور یہاں اس بات کو جاننا ضروری ہے کہ  جو دہشتگرد سرحدوں پر سرگرم عمل ہیں وہ دونوں ممالک کے دشمن ہیں اوروہ ان مشترکہ سرحدوں سے دونوں ممالک پر نقصان پہنچانے کیلئے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اسی لیے  دونوں ملکوں کو چاہیے کہ وہ اکٹھے ہی مل کے ان مسائل کو حل کریں تا کہ ان جیسے مسائل کا دوبارہ وقوع پذیر نہ ہوجائے۔

انہوں نے ایران اور پاکستان کی مشترکہ سرحدوں پر باڑلگانے کے فیصلے سے متعلق کہا کہ اب صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان باڑلگانے کے کا کام جاری ہے لیکن ابھی ایران کیساتھ مشترکہ سرحدوں پر باڑلگانے کا منصوبہ ابھی شروع نہیں ہوا ہے اور جو بھی اس حوالے سے ہوگا وہ دونوں ملکوں کی باہمی مشاورت سے ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی مشتکرہ سرحدوں پر جو چیک پوسٹز ہیں ان کا آپریشنل کر دیا جائے اور پھر وہاں کے سرحدی بازاریں کھیلیں اور ان میں رونق آئے لہذا ہمیں مشترکہ سرحدوں پر دہشتگردوں کیخلاف جنگ کے ساتھ ساتھ تجارتی عمل کو بھی اور زیادہ  سرکاری بنانا چاہیے۔

**پاک ایران کیس منصوبے کی تکمیل کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے

نوید  قمر نے 2010 میں ایران اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے گیس منصوبے کی تکمیل سے متعلق کہا کہ وہ 2010 میں پاکستان کے وزیر پٹرولیم اور گیس تھے اسی وقت پاک ایران گیس منصوبے پر دستخط کیا گیا لیکن اس کے بعد ساری دنیا کی جو سازشین اور پابندیاں سامنے آئیں اس کی وجہ سے یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس منصوبہ ایک منصوبہ ایسا ہے جس سے پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا اور ایران کو بھی فائدہ ہوگا لیکن جو بینکوں نے اس منصوبے پر سرمایہ کاری کی تھیں وہ پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے اپنی سرمایہ کاری ختم کردی اور اس کے بعد پابندیوں کی وجہ سے رقم کی منتقلی سمیت بینکوں کے درمیان باہمی تعلقات کیلئے کافی حد تک مشکلات سامنے آئیں اور اب ہمیں ضرورت ہے کہ ان سب مسائل کیلئے ایک حل نکالیں کیونکہ ابـھی پاکستان کو توانائی بحران کا شکار ہے اور ہمیں گیس کی ضرورت ہے۔

پاک ایران پارلیمانی گروپ کے سربراہ نے کہا کہ لہذا ہماری خواہش اور کوشش یہی ہونی چاہیے کہ جتنا جلد ہو یہ منصوبہ مکمل ہوجائے مگر اس منصوبے کے از سر نو آغاز کیلئے ابھی کوئی مقرر تاریخ تعین نہیں کیا گیا ہے۔

*** اقتصادی تعاون تنظیم ایکو کے فریم ورک کے اندر پاک ایران تجارتی تعلقات

 سید نوید قمر نے  کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم ایکو سے پہلے ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون آر سی ڈی تنظیم کے فریم روک کے اندر ہوتا جس میں تین ممالک یعنی ایران، ترکی اور پاکستان شامل تھے اس کے بعد اس کو مزید وسعت دی گئی اور پورے وسطی ایشیائی ممالک اس میں شامل ہوگئے اور اس تنظیم کا نام اقتصادی تعاون تنظیم رکھ دیا گیا اور اور ابھی ایکو فریم روک کے اندر ایران اور پاکستان کے درمیان کثیر الجہتی تعلقات آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔

*** چابہار اور گوادر پورٹس ایک دوسرے کی تکمیل کر دیتی ہیں

انہوں نے چابہار اور گوادر پورٹس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے طریقوں کے حوالے سے کہا کہ یہ دونوں بندرگاہیں ایک دوسرے کی تمکیل کر سکتی ہیں اور چابہار کے اسٹریٹجک اورخاص جغرافیایی پوزیشن کی وجہ سے وہ سارے وسطی ایشیائی ممالک کیساتھ تجارتی تعلقات قائم کرسکتی ہے اور گوادر پورٹ کو بھی ایک ایسی جگہ حاصل ہے لہذا ہم ان دونوں پورٹس کے درمیان تعاون سے پورے دنیا سے تجارتی تعلقات کو اور بڑھا سکتے ہیں اور ہماری پوری خواہش اور کوشش یہ ہوگی کہ یہ دنوں پورٹس اکھٹے مل کے تجارت کریں۔

***ایران مخالف امریکی پابندیوں کو جلد از جلد ختم کرنا ہوگا

سید نوید قمر نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کسی صورت میں بھی امریکی پابندیوں کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی کرے گا بلکہ ان پابندیوں سے نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کو بھی نقصان ہو رہا ہے لہذا ہماری خواہش ہے کہ ایران کیخلاف امریکی غیر قانونی پابندیوں کو جلد از جلد ہٹایا جائے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 3 =