جوہری معاہدہ: ایران کے خلوص پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا: عراقچی

ماسکو، ارنا – عراقچی نے یورپی فریقین کو انتباہ کیا ہے کہ اگر انھوں نے ایسی طرح وعدہ خلافیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو ہوسکتا ہے آئندہ امریکی صدارتی الیکشن سے پہلے ہی جوہری معاہدہ ختم ہوجائے.

 یہ بات "سید عباس عراقچی" نے ماسکو میں عدم پھیلاؤ کی عالمی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

 انہوں نے یورپی فریقین کی جانب سے ٹرگر میکنزم سے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرگر میکنزیم ایران کی ریڈ لائن ہے.

عراقچی نے کہا کہ اگر ایران کا عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ ہر طرح کی شراکت داری، مذاکرات اور تعاون کا اجر اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتویں باب کی واپسی ہے تو جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے جوہری نظریہ غلط رہا اور اپنی پالیسیاں اور جوہری نظریے کی تبدیلی کی ضرورت ہے.


کوئی بھی جوہری معاہدے میں ایران کی نیک نیتی پر شک نہیں کر سکتا ہے


انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے نیک نیتی کے ساتھ جوہری معاہدے پر مذاکرات، دستخط اور نفاذ کیا ہے.
انہوں نے یورپ کے 11 وعدے سیمت بینکاری، تجارتی، انشورنس، نقل و حمل اور ایران میں سرمایہ کاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واضح رہے کہ اگر ایک معاہدے میں کوئی فائدہ اٹھ نہیں جا سکا تو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی.
نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے کہا کہ ہم اس معاہدے جو ہمارے مفاد میں نہیں ہے، پر قائم نہیں ہوں گے مگر ہم نے قدم بہ قدم اپنے جوہری وعدوں میں کمی لانے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں ، جلد ہی اس عمل کو ختم کریں گے کیونکہ کمی لانے کے لئے کوئی وعدے باقی نہیں رہے گا۔
انہوں نے 2020 کو امریکہ اور 2021 کو ایران میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں جوہری معاہدے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ میں صدارتی انتخابات قومی مفادات اور سیکورٹی پر کوئی اثر نہیں پڑیں گے اور ہم امریکہ میں صدارتی انتخابات کے فاتح کو نظر انداز کرنے کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو جاری رکھیں گے.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 5 =