بینکاری اور تیل پابندیوں کے خاتمے کیساتھ جوہری معاہدے کا مکمل نفاذ ممکن ہوگا: ایران

ماسکو، ارنا – نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے کہا ہے کہ اگر ظالمانہ پابندیاں سمیت بینکاری اور تیل پابندیوں کو خاتمہ ہوئے تو اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کی واپسی پر تیار ہے.

یہ بات "سید عباس عراقچی" نے ماسکو میں عدم پھیلاؤ کی کانفرنس کے موقع پر ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت حسن روحانی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی صورتحال کو واضح کردیا ہے کہ اگر تمام پابندیوں کو خاتمہ ہوئے تو جوہری معاہدے کے وعدوں پر واپس آئیں گے.
عراقچی نے کہا کہ بینکاری اور تیل پابندیوں کا خاتمہ ہماری پہلی ترجیح ہے جس کی صورت میں جوہری معاہدے پر مذاکرات کرنے کا امکان فراہم ہوگا.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے موقف واضح ہے اگر ایران کے مطالبات فراہم نہ ہوئے تو جوہری وعدوں کی کمی لانے کو جاری رکھے گا.
ایران اور روس کے درمیان مذاکرات جاری رکھیں گے
نائب ایرانی وزیر خارجہ نے ماسکو میں روسی حکام کے ساتھ گہرے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے ساتھ جوہری معاہدے، عالمی اور دوطرفہ مسائل پر مسلسل گفتگو کر رہے ہیں.
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور روس تمام موضوعات پر مشترکہ موقف رکھتے ہیں جو علاقائی امن اور استحکام میں مدد کرکے خطے میں بڑھتی ہوئی امن کا باعث بن گیا امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کی پالیسیوں سے مقابلہ کر رہا ہے.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 9 =