عالمی سامراج کا مقصد امت مسلمہ کے درمیان تفرقہ ڈالنا ہے:پاکستانی محقق

تہران، ارنا – پاکستانی محقق نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے لیے عالمی سامراج کا مقصد ان اسلامی ممالک کے وسائل اور دولت کو لوٹ مار کرنا ہے.

یہ بات پاکستانی محقق ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی نے تہران میں منعقدہ امام علی کی تیسری بین الاقوامی کانگریس کے موقع پر ارنا نیوز ایجنسی کی اردو سروس کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

ڈاکٹر بشوی نے اردو اور فارسی کی زبانوں میں 22 کتابوں کو ترجمہ کیا ہے اور ان کو فارسی، انگریزی، اردو، عربی اور پشتو کی زبانوں میں 150 مقالات اور مضامیں ہیں۔

المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی قم ایران کے ریسرچ سکالر 'محمد یعقوب بشوی نے شعبہ 'قرآنیات' میں پی ایچ ڈی کا اعزاز حاصل کیا ہے اور انہوں نے ''معاشرتی تبدیلیاں قرآنی کی نظر سے "کے عنوان سے اپنا تحقیقی مقالہ مکمل کر کے ڈاکٹریٹ کا مرحلہ مکمل کیا۔

اس یونیورسٹی میں زیر تعلیم اسلامی علوم کے فاضل علما و طلبا میں سے ڈاکٹر بشوی بر صغیر کے پہلے طالب علم ہیں جنہوں نے محنت شاقہ سے ڈاکٹریت کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر بشوی جن کا تعلق صوبہ گلگت بلستان کے علاقہ بشو سے ہے کئی تحقیقی کتابوں کے مولف ہیں جن میں سے ایک " نقد احادیث مہدویت" ہے۔

علاوہ از این موصوف کے آثار میں "حقوق اہل بیت در تفاسیر' اور 'آفتاب فقاہت' و غیرہ شامل ہیں، ڈاکٹر بشوی نے اب تک کئی بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کر چکے ہی، موصوف ایک معروف اور بلند پایہ خطیب ہونے کے علاوہ اتحاد بین المسلمین کے زبردست داعی بھی ہیں۔

٭٭ اسلام امن اور دوستی کا مذہب ہے اور پرامن زندگی پر زور دیا ہے۔ کیوں غیر ملکی طاقتین عالم اسلام کے درمیان تفرقہ ڈالنا اور اس اتحاد کو تباہ کرنا چاہتے ہیں؟

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی حقوق کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کا دین غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر کے لوگوں کو زندگی کرنے کا سبق دیتا ہے۔

اسلام کہتا ہے کہ آپ آزاد ہیں اور آزادانہ طور پر عمل اور سوچ کرسکتے ہیں کیونکہ اسلام ظلم، جبر اور جارحیت کا مخالف ہے اسلام لوگوں کے مادی اور روحانی حقوق کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

مغربی ممالک کی آبادی کا 99 فیصد سرمایہ دار طبقہ اور ایک فیصد عوام ہیں جبکہ اسلام انصاف اور سماجی انصاف پر زور دے کر ظلم سے بچتا ہے۔ ہم اسلام میں سماجی انصاف کو جانوروں کے درمیان بھی دیکھتے ہیں۔ مہدویت کے نظام کی آمد کے ساتھ دنیا کے تمام ظالم نظام ختم کردیئے جائیں گے کیونکہ یہ نظام انصاف کی بنیاد پر ہے سامراجی طاقتین اسی وجہ سے اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کر رہی ہیں.

سامراجی طاقتین نے خود داعش اور دہشتگردی گروپوں کو پیدا کیا ہے کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ اسلامی ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کرنے میں مصروف رہیں۔ وہ اپنے اتحاد کو تباہ کرنا اور ہماری دولت کو غارت کرنا چاہتی ہیں۔

جیسے آپ دیکھ رہے ہیں اب امریکہ اور اسرائیل عراقی تیل کو لوٹ رہے ہیں شام میں بھی ایسا ہے۔ وہ ہمارے وسائل پر قبضہ کر کے لوٹ رہے ہیں کیونکہ وہ ہمارے استقلال کا مخالف ہیں اسی لیے ہم کو غریب اور نوآبادیاتی بنانا چاہتے ہیں.

وہ ہماری نسلوں کو اپنی غلام بنانے کے لیے ہم کو قرضہ اور خیرات(صدقہ) دیتے ہیں.

بدقسمتی سے بعض بے وقوف دینی علماء اسلام کو اپنے مخصوص طریقے سے پیش کرتے ہیں۔ وہ اسلام کو اپنے قدامت پسند افکار کے ساتھ متعارف کر کے لوگوں کو مذہب اور دین سے دور کرتے ہیں اور ایسے انتہاپسند اور قدامت پسند افکار سے ہی طالبان او داعش جیسے دہشتگرد گروپوں جنم لیتے ہیں جبکہ اسلام عقل اور حمکت کا دین ہے.

لیکن ہم نے حقیقت میں اسلام کو اچھی طرح نہیں سمجھا ہے اسی وجہ سے ہم لوگوں کو دین سے دور کر کے وہم و گمان کا شکار کرتے ہیں.

٭٭ کیا مسلمانوں اس سلسلے میں قصور وار ہیں؟

اس حوالے سے بے وقوف  اور ان پڑھ مسلمان قصور وار ہیں،  اسلامی تعلیمی نظام دو مرحلوں پر مشتمل ہے پہلا اقراء( پڑھنا) اور دوسرا سمجھنا ۔ ہم کو صرف پڑھنا آتا ہے سمجھنا نہیں۔

انسانیت کو دین کی ضرورت ہے کیوں امام علی کا راستہ ابھی باقی ہے اگر آج ہم امام علی کا راستہ کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لوگوں کی ضرورت کو جاننا اور اس کے مطابق دین کو پیش کرنا چاہیے.

دین کے سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے قرآن پاک سے مدد لینا ہوگی کیونکہ یہ الہی کتاب ہمیں صحیح اور سیدھا راستہ کو دکھاتی ہے.

٭٭ثقافتی سفارت کاری اور سائنسی برادری دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی ترقی کے لیے کس حد تک موثر ہے؟

سائنسی اور ثقافتی ماہرین دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بڑھانے کے لیے بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں خاص طور پر موجودہ صورتحال میں سوشل میڈیا کو باہمی تعلقات کے فروغ کے لیے ایک خاص اہمیت حاصل ہے، میری رائے میں سوشل میڈیا اس صدی کا معجزہ ہے.

٭٭آپ کے خیال میں ایرانی قوم کی سب سے بڑی خصوصیت کیا ہے؟

ایران کے عظیم اور انقلابی عوام عالمی ماڈل ہیں، ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی (رہ) ایک عظیم شخصیت تھا، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ امام خمینی کے اسلامی انقلاب کی کامیابی ایرانی بہادر اور عظیم قوم کے تاریخی اور بے مثال کردار کے بغیر ممکن نہ تھی۔

٭٭ایران اور پاکستان دونوں دہشتگردی کا شکار ہیں اس حوالے سے باہمی تعاون کی ضرورت کے حوالے سے آپ کا خیال کیا ہے؟

میرے خیال میں دہشتگردی سے لڑنا ہمارا سب سے بڑا فرض ہے، ایران ہمارا دوست اور پڑوسی ملک ہے ایران کی سیکورٹی ہماری سیکورٹی اور ہماری سیکورٹی ایران کی سیکورٹی ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم اور ملزوم ہیں.

٭٭دونوں ممالک کے درمیاں ثقافتی، سیاسی، سماجی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ کی ضرورت کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا ؟

ایران اور پاکستان کو باہمی سیاسی، ثقافتی، سماجی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ہوگا اور پاکستان ایران سے اپنی اقتصادی ضروریات کے ایک حصے کو فراہم کرسکتا ہے۔

٭٭دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کے فروغ کے لیے سائنسدانوں کا کردار کیا ہے؟

سائنسی اور ثقافتی ماہرین ممالک کے سفیر اور ثقافتی نمائندے ہیں اور اس حوالے سے دونوں ممالک میں بہت سی قابلیتوں موجودہیں جو ہمیں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بڑھانے کے لئے ان صلاحیتوں سے مزید فائدہ اٹھانا چاہئے۔

٭٭آپ کے خیال میں امام علی کی سب سے اہم خصوصیت کیا ہے؟

امام علی کی زبان عام فہم ہے جیسا کہ ہم نہج البلاغہ میں دیکھ رہے ہیں ان کا کلام عام فہم اور واضح ہے اور یہ امیر المومنین علی علیہ اسلام کے لافانی کلام کی بقا کا راز ہے۔

امام علی (ع) نے کائنات اور مخلوقات کے اسرار کے بارے میں بات کرتا ہے وہ ہمیں دکھاتا ہے کہ مذہب اور دینی علوم صرف فقہ نہیں ہے۔ بلکہ قدرتی علوم کے مطالعہ کے ذریعہ ہمارے ذہن میں ایک نیا بات کھل جاتا ہے۔ امام علی کا راستہ کی بقا کا راز یہ ہے کہ وہ لوگوں کے درد کو جانتا ہے اور اس درد کے مطابق علاج پیش کرتا ہے۔

٭٭ یہ کانفرنس حضرت علی کی شخصیت کو متعارف کرنے میں کتنا موثر ہے؟

آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے ہم سوشل میڈیا کے ذریعہ بڑے پیمانے پر تشہیر کی جاسکتی ہے۔ ہمیں اس کانفرنس کے انٹرویوز اور مقالات کو متعدد زبانوں کا ترجمہ کر کے تشہیر کرنا چاہیے۔ ایک کلپ یا ویڈیو خود ایک نہ رکنے والا اشتہار ہے۔ اس کانفرنس کے ذریعے عوام کے سامنے ایک نئی دنیا کھول جاتی ہے۔ ہم کو اس کانفرنس کی صلاحیتوں سے اچھی طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور ہم امیر المومنین سائٹس کو دنیا کی متعدد زبانوں میں متعارف کروا سکتے ہیں۔

٭٭ کیا آپ نے اس سے پہلے ایران کا سفر کیا ہے؟

میں نے اس سے پہلے قم کی بین الاقوامی یونیورسٹی سے شعبہ قرآنیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے اور چودہ سال پہلے سے امام رضا (ع) کا سرکاری خطیب ہوں۔

٭٭ ایران کے سیاحتی اور تاریخی مقامات کیسے ہیں؟

میں نے اس سے پہلے ایران کے شمالی علاقوں کے علاوہ ، سنندج، اردبیل اور ہمدان کے شہروں کا سفر کیا ہے۔ ایران کو بہت بہت حسین اور لامثال قدرتی مناظر ہیں۔ لیکن دنیا کے بہت سے لوگ ان منفرد مقامات سے بے خبر ہیں۔ ہم سوشل میڈیا کے ذریعہ بڑے پیمانے پر ان دلکش مقامات کی تشہیر کر سکتے ہیں۔

 ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 7 =