امریکہ غنڈہ گری کیساتھ پھانسی دینے والا اور شکار کی جگہ نہیں لے سکتا : ایران

تہران، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی حکومت غنڈہ گری اور بیان بازی کے ساتھ پھانسی دینے والے اور شکار کی جگہ نہیں لے سکتی۔

 یہ بات "سید عباس موسوی" نے منگل کے روز بعض ایرانی عہدیدار کے خلاف امریکی نئی پابندیوں پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کی یک طرفہ پابندیوں کا نشہ اس ملک کی کمزوری کا باعث بن رہا ہے اور وہ ایرانی بہادر قوم کے مستحکم ارادے کے سامنے شکست کی وجہ سے ایسی کھوکھلاپن پابندیاں عائد کر رہی ہے.
موسوی نے امریکی یک طرفہ پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بار بار اعلان کیا کہ امریکہ کے اقدامات کی وجہ ایرانی منطق کی مبنی پر اسٹریٹجک موقف کے سامنی کی ناکامی ہے.
انہوں ںے یوم 4 نومبر کو وائٹ ہاؤس کے ایران مخالف بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس ہمیشہ غیرشائستہ اور غیر سفارتی زبان کے ساتھ الجیریا کے معاہدوں کے مطابق ایرانی اور امریکی عوام کے درمیان حل ہونے والے مسائل اور حقائق کو مسخ کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہے.
انہوں نے کہا کہ امریکہ گزشتہ 66 سالوں کے دوران ایرانی عوام کے خلاف اپنے جرائم سمیت چوری، قتل عام اور معاشی دہشتگردی کو چھپ نہیں کرسکتا ہے.
ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی حکومت نے ایران سے کچھ منسوب کیا ہے ، ویسے بھی ، ایرانی عوام اور دنیا کا امریکی حکومت سے مطالبہ ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی حکومت کو دہشتگردی سمیت ناجائز صہیونی ریاست جو دوسرے ممالک کے وسائل کو چور کر رہی ہے، کی حمایت، معاشی دہشتگردی اور سمندری ڈاکو کو روک کرنا اور عاقلانہ کے راستے پر قدم چلنا ہوگا.
تفصیلات کے مطابق، امریکی وزارت خزانہ نے اس سے پہلی ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر کو پابندیوں کی فہرست میں قرار دے دیا، اب بعض ایرانی حکام کے ناموں کو اس فہرست میں اضافہ کردیا.
یاد رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ میں غیرملکی اثاثہ جات پر کنٹرول کے دفتر (او ایف اے سی) نے پیر کے روز ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف اور 9 اشخاص جو رہبر معظم کی جانب سے مختلف پیشوں کے لئے مقرر کئے گئے ہیں، کے ناموں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 12 =