ایرانی قوم کی نظر میں ٹرمپ سے زیادہ حقیر شخص کوئی نہیں: آیت اللہ خامنہ‌ای

تہران، ارنا - سپریم لیڈر ایران حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ ایران امریکہ تنازع سے متعلق حقائق کو مسخ کرتے ہوئے تہران میں امریکی جاسوس اڈے پر قبضے کو ان تنازعات کی وجہ قرار دیتے ہیں جبکہ یہ سچ نہیں بلکہ یہ اختلاف 19 اگست 1953 اور اس سے پہلے شروع ہوا جب امریکیوں نے ایرانی عوام پر آمرانہ حکومت مسلط کی.

ان خیالات کا اظہار حضرت آیت اللہ العظمی "سید علی خامنہ ای" نے اتوار کے روز یوم 4 نومبر (13 آبان) عالمی سامراج کے خلاف قومی یوم مزاحمت اور یوم طلبا کے موقع پر ایرانی طالب علموں کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے فرمایا کہ امریکہ گزشتہ 41 سالوں سے اب تک اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف سازشیں کر رہا ہے مگر ہم طاقت کے ساتھ اپنے ملک کا دفاع کرکے اس کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے.
آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے رویے میں گزشتہ سے اب تک کوئی تبدیلی پیش نہیں آئی ہے اور آج وہی بدکاری، بین الاقوامی آمریت پیدا کرنے کی وہی کوشش اور بے حد قبضہ جما لینا اس میں موجود ہے البتہ زیادہ ظلم و بربریت کے ساتھ.
قائد اسلامی انقلاب نے فرمایا کہ امریکہ کی ایران میں سیاسی مداخلت اور دوبارہ تسلط کی راہ کے روکنے کو واشنگٹن کی سازشوں کے منہ توڑ پر جواب تھا اور ان کے ساتھ مذاکرات نہ کرنا اس ملک میں ان کے داخلے کی رکاوٹ کا ایک اہم ذریعہ ہے.


انہوں نے امریکہ کے خلاف ایران کے موقف کو منطق کی مبنی پر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ عقلانی راستہ امریکیوں کی دوبارہ مداخلت کو روک کرکے اسلامی جمہوریہ ایران کی حقیقت کو دنیا میں ثابت اور امریکہ کے جوٹھے چہرے کو بے نقاب کرتا ہے.
رہبر معظم نے ایرانی میزائل طاقت کو روکنے کے لئے امریکہ کی کھوکھلا پن کاروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آج اللہ تعالی کی مدد اور بہادر جوانوں کی کوششوں کے ساتھ پر طاقت میزائل بنا دئے گئے ہیں جو نہایت درستگی کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں.
ایرانی سپریم لیڈر نے فرانسیسی حکومت کی ثالثی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ فرانس کے صدر کے مطابق ٹرمپ کے ساتھ ایک ملاقات تمام مسائل کا حل ہے مگر وہ جاں لے کہ یہ شخص یا عجیب ہے یا امریکہ کا حامی ہے.
قائد اسلامی انقلاب نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ایران کی صورتحال کو انقلاب کی کامیابی سے پہلے صورتحال پر واپس کرنا چاہتا ہے مگر ہمارے ملک اپنے مستحکم عزم اور طاقت کے ساتھ ان کے منفی عزائم کے حاصل ہونے کی اجازت نہیں دے گا.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 6 =