جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی اسے بہت بڑا نقصان پہنچا ہے: برطانوی سفیر

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران میں تعینات برطانوی سفیر نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کو اس معاہدے پر بہت بڑا نقصان قرار دے دیا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم پابندیوں کے بُرے اثرات کو دور نہیں کرسکتے لیکن اس صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے نیک نیتی سے ایران کیساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "روب میکئر" نے آج بروز ہفتے کو اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ جوہری معاہدے سے متعلق اپنے کیے گئے وعدوں پر قائم ہے اور وہ دیگر یورپی اراکین بشمول فرانس، روس اورچین کیساتھ بھر پور کوشش کر رہے ہیں تا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، جوہری معاہدے کے ثمرات سے مستفید ہوجائے۔

برطانوی سفیر نے مزید کہا کہ آئندہ ہفتوں کے دوران، ایران جوہری معاہدے سے متعلق بہت اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

میکئر نے حالیہ دنوں میں بھی ایک پیغام میں یورپی یونین سے برطانوی علیحدگی کے بعد ایران جوہری معاہدے سے متعلق برطانیہ کے رویے میں ممکنہ تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تها کہ بہت سارے چیلنجر کے باوجود ہم پھر بھی جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں جوہری توانائی کے شعبے میں سرگرم برطانوی ماہرین نے ایران کا دورہ کیا جہنوں نے اراک نیوکلیئر ری ایکٹر کو جدید بنانے میں تعمیری کردار ادا کیا۔

برطانوی سفیر نے ان جیسے مثالی باہمی تعاون کو جوہری معاہدے کے فوائد میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اور برطانیہ، دنیا کے بہترین ایٹمی ماہرین بشمول پروفیسر "رابن گریمز" اور اس شعبے کے بہترین ٹکنالوجی سے مستفید ہیں۔

انہوں نے طبی اور صنعتی مواد کی تحقیق کرنے کے قابل جدید ترین ری ایکٹر بنانے کیلئے ایران کی منصوبہ بندیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد بھی اس بین الاقومی معاہدے کی کارکردگی قابل قبول ہے۔

یه بات قابل ذکر ہے کہ اکتوبر مہینے کے ابتدائی دنوں میں برطانوی جوہری ماہرین کی ایک ٹیم نے برطانوی حکومت کے سینئرمشیر برائے سائنسی امور "رابین گریمز" کی قیادت میں اراک ایٹمی ری ایکٹر کی از سر نو تعمیر کیلئے اسلامی جمہوریہ ایران کا دورہ کیا تھا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 0 =