ایرانی قوم کے مفادات کی فراہمی کیلئے ہر نشست میں شرکت کریں گے: صدر روحانی

تہران، ارنا – ایران کے صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب ہم یقین رکھیں کہ ہر دورے پر ایرانی مفادات فراہم ہوں گے، اس نشست میں شرکت کے لئے تیار ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "حسن روحانی" نے پیر کے روز ملکی اور غیرملکی میڈیا کے ساتھ ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

انہوں نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ اگر ہمیں اس طرح کے اجلاس میں شرکت کے لئے خود کو قربان کرنا پڑا ، تو یہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہوگی۔

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ تمام اشارے اور معاشی اعدادوشمار اس کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملکی معیشت صحیح ٹریک پر ترقی کی طرف آگے بڑھ رہی ہے.

انہوں نے کہا کہ ایرانی کی معاشی شرح نمو گزشتہ سال منفی تھی مگر ہم متوقع ہیں کہ رواں سال کے پہلے چھ مہینے کے دوران معاشی نمو مثبت ہوگی۔
صدر روحانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں برآمدات اور درآمدات کی صورتحال میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتری آئی ہے اور حالیہ مہینوں میں کرنسی کا استحکام ملکی معیشت کی ترقی کی علامت ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے سیاسی اور معاشی شعبوں میں شکست نہیں کھائے ہیں اور نازک حالات سے گزر چکے ہیں۔

IR9 سینٹری فیوجزوں کو جلد فعال بنائے جائیں گے


انہوں نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کی مذمت اور حالیہ مہینوں میں ایران کے جوہری وعدوں کی کمی کے تیسرے مرحلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جلد اپنی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کی ترقی کی بناپر IR9 سینٹری فیوجزوں میں گیس انجکشن کا آغاز کرے گا.

پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں


انہوں نے الجیریا چینل کے صحافی کے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورے تہران کے مقصد ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی ادا کرنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان کے دورے ایران کے مقاصد میں سے ایک علاقائی مسائل پر مذاکرات کرنا تھا.
ایرانی صدر نے کہا کہ عمران خان کل بروز منگل سعودی عرب روانہ ہوں گے لہذا اس دورے سے پہلے ہمارے تبصرے سننا چاہتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ یمنی مسئلہ اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان اہم مسئلہ ہے، اگر یمن کا مسئلہ حل ہوئے تو ریاض کے ساتھ اہم مسائل میں سے ایک حل ہوگا.
روحانی نے اس بات پر زور دیا اور کہا کہ ہم پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقا بڑھانا چاہتے ہیں.
انہوں نے کہا کہ عراق نے بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان مسائل کے حل کے لئے کوشش کی اور کر رہا ہے، مذاکرات کے ذریعہ مسائل حل کرنے میں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب کے سواحل پر ایرانی آئل ٹینکر پر حالیہ حملوں کی حقیقت کو واضح کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں.


ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات ماضی کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے


صدر مملکت نے حالیہ دنوں میں ایک اماراتی وفد کے دورے تہران کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان وفود تبادلہ کئے گئے، ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات ماضی کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے اور صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 11 =