افغان پناہ گزینوں کے مسائل کو دوطرفہ طور پر حل کرنا ہوگا: ایران

تہران، ارنا - ایران کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ملک میں بسنے والے افغان پناہ گزینوں کی مشکلات کو ایران اور افغانستان مل کر حل کریں.

انہوں نے کہا کہ ایران میں پناہ گزینوں سے متعلق عالمی سطح پر جو ہمیں امداد ملتی ہے وہ ہماری کوششوں کا صرف 6 فیصد کو پورا کرتی ہے.

ان خیالات کا اظہار "عبدالرضا رحمانی فضلی" نے جینوا میں منعقدہ اکسکام اجلاس کے موقع پر افغان وزیر برائے مہاجرین سید "حسین عالمی بلخی" کیساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے گزشتہ 40 سالوں کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے افغان مہاجرین کی میزبانی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کی بحالی، افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور ان کے در پیش مسائل کا واحد حل ہے۔

رحمانی فضلی نے مزید کہا کہ ایران میں چائلڈ لیبرز کے 86 فیصد کا حصہ افغان شہری ہیں جن کے نام و نشان اور ان کے ماں باپ کو پہچانا چاہیے تا کہ ان کیلئے شناختی کارڈ بنوایا جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران میں موجود افغان چائلڈ لیبرز کو تعلیم حاصل کرنے سمیت بنیادی اور ضروری  مہارتوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔

ایرانی وزیر داخلہ نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (UNHCR)، افغانستان اور ایران کے درمیان سہ فریقی ورکنگ گروپ کی تشکیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں مقیم افغان پناہ گزینوں کیلئے ایک ایسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تا کہ وہ اپنے ہی وطن کو دیکھ سکے اور مناسب صورتحال کی فراہمی کی صورت میں اپنی وطن واپس جائیں۔

اس موقع پر افغان وزیر برائے مہاجرین نے ایران میں افغان پناہ گزینوں کی تعلیم کے حوالے سے قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی ہدایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ حکم اس بات کی باعث بنی کہ ایک لاکھ افغان پناہ گزین، ایران میں تعلیم حاصل کر سکیں۔

انہوں نے گزشتہ 40 سالوں سے اب تک اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے افغان پناہ گزینوں کی اچھی میزبانی کا شکریہ ادا بھی کیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 1 =