ٹرمپ کی اقوام متحدہ میں تقریر ایران امریکہ مذاکرات کی تجویز میں رکاوٹ بنی: ظریف

تہران، ارنا - ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ پابندیاں ختم نہیں ہوں گی بلکہ اس میں اضافہ کردیا جائے گا.

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے ایرانی نیوزایجنسی "خانہ ملت" سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ظریف نے مزید کہا کہ انہوں نے پیر کے روز ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسسی کمیٹی کے اجلاس میں میں ایرانی وفد کے حالیہ دورہ نیویارک سے متعلق وضاحتیں پیش کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اس بات کے باوجود کہ امریکہ نے ایرانی وفد کی سرگرمیوں کو بالخصوص میڈیا کے شعبے میں محدود کرنے کی کسی کوشش سے دریغ نیہں کیا تاہم یہ دورہ، سب سے زیادہ موثر دوروں میں سے ایک تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایرانی صدر مملکت اور وزیر خارجہ کے وفد میں شامل میڈیا کے حکام کیلئے ویزہ جاری نہیں کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے صدر روحانی کی حالیہ تجویز "ہزمر امن منصوبہ" کی پیش کش کو خطے کے درپیش مسائل اور جنگوں کے خطروں کے تناظر میں ایک اسٹرٹیجک اقدام قرار دے دیا اور کہا کہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات ناگزیر ہے۔

انہوں نے یمنی بحران اور یمن میں انسانیت کے خلاف ہونے والے سنگین جرائم پر روشنی ڈالنے کو ایرانی وفد کے دورہ نیویارک کے اہم اقدامات میں سے ایک قرار دے دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مز ید کہا اس اجلاس کے دوران، یورپی اراکین کیجانب سے ایران جوہری معاہدے کے بھر پور نفاد پر زور دیا گیا اور ساتھ ساتھ  قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی ہدایت پر امریکہ سے مذکرات کی تجویز کو ماننے کیلئے ایران کیخلاف عائد پابندیوں کو اٹھانے کی شرط کو بھی اعلان کیا گیا۔

ظریف نے مزید کہا کہ اگر جوہری معاہدے کے دیگر اراکین اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل نہ کرین تو اس معاہدے سے متعلق ایران کے کیے گئے وعدوں میں کمی کے چوتھے مرحلے کا نفاذ بھی ہوجائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ صدر روحانی کیجانب سے امریکہ کیساتھ مذاکرات کی پیشکش کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے موقع پر واضح طور کہا کہ وہ نہ صرف ایران کیخلاف عائد پابندیوں میں کمی نہیں لائیں گے بلکہ ان میں مزید اضافہ بھی کریں گے۔

ظریف نے مزید کہا کہ امریکی حکام کو جاننا چاہیے کہ اگر وہ 5+1 گروپ کے مذاکرات میں واپس لانا چاہتے ہیں تو سب سے ضروری بات یہ ہے کہ وہ اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کریں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ مذکرات کی میز تو بجائے خود باقی ہے اور یہ امریکہ ہے جس نے وعدہ خلافی کرکے مذاکرات کی میز کو ترک کر دیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 6 =