ہخامنشی دور کے نادر خاکوں کی ایران واپسی نہایت اہم اقدام قرار

تہران، ارنا - ایرانی پارلیمنٹ کے ثقافتی کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود ہخامنشی سلطنت کے دور کے 1783 نادر خاکوں کی وطن واپسی ایک نہایت بڑا اقدام ہے.

انہوں نے ان خاکوں کی وطن واپسی کے عمل میں اسلامی جمہوریہ ایران کے محکمہ برائے ثقافتی ورثے، دستکاری صنعت اور سیاحت کے کردار کو انتہائی اہم قرار دے دیا۔

"سیدہ فاطمہ ذوالقدر" نے 84 سالوں کے بعد ہخامنشی کے دور کے 1783 نادر خاکوں کو بہت ساری کوششوں کے بعد وطن میں واپسی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کرد یا کہ دوسرے ممالک میں موجود ایران کے دیگر آثار قدیمہ کو وطن واپس لائیں گے۔

واضح رہے کہ یہ الواح جو امریکہ کے شکاگو انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز میں موجود تھے کو قانونی تعقیب سے وطن واپس کردیا گیا تھا اور ایران کے نیشنل میوزیم میں رونمائی ہوئی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1311 کے شمسی سال میں 30 ہراز سے زائد نادر خاکوں کی دریافت کی گئی جن پر ایلامی اور میخی خط میں لکھائے گئے تھے۔ ان الواح کو اس وقت کی حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کام کیلئے شکاگو یونیورسٹی کے سپرد دیا گیا۔

ہخامنشی دور کے نادر الواح کو 4 مرحلے میں بالترتیب 1327، 1329، 1383 اور 1398 کے شمسی سالوں میں امریکہ سے وطن واپس لائا گیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 11 =