امریکہ کی خارجہ پالیسی میں کوئی حکمت عملی نظر نہیں آرہی: ایرانی اسپیکر

تہران، ارنا- ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے علاقے میں نئے سیکورٹی نظام کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں کوئی نئی حکمت عملی نظر نہیں آرہی کیونکہ ان کا رویہ انتہاپسندی پر مبنی ہے۔

ان خیالات کا اظہار "علی لاریجانی" نے الجزیرہ ٹی وی چینل کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس انٹرویو کے دوران یمنی گروہ انصارللہ کی جانب سے سیز فائر کی پیشکش، سعودی ولیعہد کے حالیہ بیانات، ایران جوہری معاہدے، سعودی تیل تنصیبات پر حملے اور جنگ کے امکانات پر روشنی ڈالی.

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی.

لاریجانی نے مزید کہا کہ امریکیوں کو خطی مسائل کی خصوصیات کو تسلیم کرنے سمیت ان کے مطابق اقدمات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ علاقائی مسائل فوجی کاروائی سے حل نہیں ہوں گے اور ایران کا موقف اسلامی ممالک کی مدد اور ان سے تعاون ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کے حکام کیجانب سے ایران کو دیے گئے پیغام سے متعلق ایران کے جواب کے بارے میں کہا کہ ہمارا بدستور موقف یہ ہے کہ خطی مسائل بشمول سیاسی اور سیکورٹی اختلافات کو علاقائی ممالک کے تعاون سے حل کرنا ہوگا اور سعودی عرب کے حوالے سے بھی ایران کا موقف یہی ہے۔

لاریجانی نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ خطی مسائل کا واحد حل مذاکرات ہے۔

ایرانی اسپیکر نے سعودی عرب کے حکام کیجانب سے فریضہ حج کی ادائیگی سے متعلق ایرانی حجاج کیلئے خدمات اور سہولیات کی فراہمی سے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم  بہت سارے مسائل کو اسی طرح حل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ہمیشہ خطی مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سعودی حکام امریکیوں پر بھروسہ اور علاقے میں کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے خطی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے سے حل کرنے کی تجویز دیں تو مذاکرات کا امکان ہے.

ایرانی اسپیکر نے سعودی ولیعہد کے اس بیان پر کہ وہ خطی مسائل کو عسکری طریقے کے بجائے سیاسی طریقوں سے حل کرنے میں دلچسبی رکھتے ہیں، کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کے حالیہ بیانات ان کے گزشتہ موقف سے ہٹ کے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے لہذا اگر سعودی عرب اپنی درخواست کو واضح طور پر بیان کریں تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی سوچ سمجھ کے بعد ان کا پاسخ دے گا۔

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ  خطی مسائل کا حل فوجی کاروائی کے ذریعے ناممکن ہے جیسا کہ یمن اور شام کے بحران بھی فوجی کاروائی کے ذریعے حل نہ ہوسکے.

لاریجانی نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرت کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ہم مذاکرات کے مخالف نہیں ہیں لیکن پہلے دوسرے فریق کو اپنے گزشتہ کے غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے ایران مخالف پابندیوں کو اٹھانے کی ضرورت ہے پھر اس کے بعد مذاکرات کا امکان فراہم ہوجائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے بیانات بالکل صحیح ہیں۔ جب تک ایران کیخلاف عائد پابندیوں کو نہیں اٹھائے تب تک مذاکرات کا امکان نہیں ہے۔

*274**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@ 

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 0 =