خلیج فارس میں پائیدار قیام امن و سلامتی خطی ممالک کے تعاون سے فراہم ہوگا: ایرانی صدر

تہران، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے اپنے روسی ہم منصب کیساتھ ایک ملاقات میں کہا ہے کہ خلیج فارس میں پائیدار قیام امن و سلامتی خطی ممالک کے تعاون سے فراہم ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں قیام امن و استحکام اور آبنائے ہرمز میں آزاد اور پُرامن کشتی رانی کی فراہمی اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی کا اہم جز ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر حسن روحانی نے آرمینیا کے دارالحکومت یروان میں منعقدہ یوریشین اقتصادی یونین کے موقع پر اپنے روسی ہم منصب "ولادیمیر پیوٹین" کیساتھ ملاقات کی۔

اس ملاقات میں دونوں فریقین نے باہمی دلچسبی امور سمیت خطی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے صدور نے ایران جوہری معاہدے کی تازہ ترین صورتحال سمیت خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور ہرمز امن منصوبے سے متعلق بات چیت کی۔

اس موقع پر ایرانی صدر نے بین الاقوامی مسائل کے حل کیلئے جوہری معاہدے کو کامیاب سفارتکاری کی مثال قرار دیتے ہوئے اس معاہدے کے دیگر اراکین سے اپنے کیے گئے وعدوں پر من وعن عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ جوہری معاہدے کے سارے رکن ممالک اس بین الاقوامی معاہدے کے نفاذ کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ممکت نے اس حوالے سے روس کے کردار کو اہم قرار دے دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں قیام امن و استحکام اور آبنائے ہرمز میں آزاد اور پُرامن کشتی رانی کی فراہمی اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی کا اہم جز ہے اور خلیج فارس میں پائیدار قیام امن و سلامتی خطی ممالک کے تعاون سے فراہم ہوگا۔

صدر روحانی نے ہزمر امن منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے اس منصوبے کے مقصد کو آبنائے ہرمز علاقے میں تمام رہنے والوں کی خوشحالی اور ترقی سمیت ان کیلئے پُر امن ماحول کی فراہمی اور ان کے درمیان دوستانہ تعلقات کا قیام، قرار دے دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی تجویز کردہ منصوبے میں آبنائے ہرمز اور اس آگے کے سمندری علاقوں میں آزاد اور پُرامن جہازرانی، تیل اور توانائی تک آسانی رسائی اور تمام ممالک کو ایندھن ضروریات فراہم کرنا شامل ہیں.

 اس موقع پر روسی صدر نے ایران جوہری معاہدے کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے ہو تے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک اس معاہدے کے دیگر اراکین کیجانب سے اپنے کیے گئے وعدوں پر پوری طرح عمل کرنے کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔

انہوں نے یوریشین کی اقتصادی یونین سے ایران کے با ضابطہ تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے فروغ کیلئے اہم قرار دے دیا۔

اس ملاقات میں دونوں ممالک کے صدور نے تمام شعبوں میں باہمی تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 2 =