یہودی برادری؛ ایران میں ایک معزز اور قابل احترام اقلیت

تہران، ارنا- ایران میں یہودی مذہب کے پیروکار ایک پُرامن اور سکوں بھرے ماحول میں زندگی گزارتے ہیں اور ان کیساتھ بڑے احترام سے سلوک کیا جاتا ہے جس کا اعتراف امریکی اور مغربی میڈیا نے بھی کیا ہے۔

گزشتہ روز نے ایرانی صدر کے مشیر برائے مذہبی اور اقلیتی امور"علی یونسی" نے ایک پیغام میں نئے عبری سال کی آمد پر یہودی برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

امریکی اخبار یو ایس ٹوڈے نے کچھ دنوں پہلے ایران میں یہودی اقلیت کی صورتحال کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایرانی حکومت نے ملک میں ہزاروں یہودی مذہب کے پیروکاروں کے لئے ایک محفوظ، آزاد اور پُرامن ماحول فراہم کیا ہے اور وہ دوسرے ایرانی عوام کے ساتھ پُرسکون زندگی گزارتے ہیں۔

ایران کے ایک چرچ کے مذہبی رہنما "نجات گلشیرازی" نے یو ایس ٹوڈے نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے پاس اپنے دینی فرائض کو سرانجام دینے کیلئے تمام ضروری سہولیات موجود ہیں اور ہم اپنی دعائیں آزادانہ طور پر ادا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ایران میں کوئی مسئلہ نہیں اور ہمارا بہت احترام بھی کیا جاتا ہے۔

یہودی برادری کے مطابق اب اسلامی جمہوریہ ایران میں لگ بھگ 12 ہزار سے 15 ہزار تک کے یہودی مذہب کے پیروکار موجود ہیں۔

ایران میں یہودیوں کی موجودگی کی تاریخ تین ہزار سال پہلے کی ہے۔اس وقت ایران کی یہودی برادری کا پارلیمنٹ میں ایک نمائندہ ہے اور یہودی مذہب کے پیروکار دوسرے ایرانیوں کی طرح حقوق اوردوسرے خدمات سے مستفید ہوتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے باضابطہ طور پر مذہبی اقلیتوں کو تسلیم کیا ہے اور ان کے نمائندہ ایرانی پارلیمنٹ میں حصہ لے سکتے ہیں۔
امریکی یو اس ٹوڈے اخبار نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ اگرچہ یہودی برادری 800 لاکھ کی آبادی پر مشتمل ایران میں ایک چھوٹی اقلیت سمجھی جاتی ہیں تا ہم اسلامی جمہوریہ ایران، مشرق وسطی میں یہودی برادری کی سب سے بڑی جماعت کی میزبان ملک ہے۔

گلشیرازی اوریہودی برادری کے دیگر سینئر اراکین کا کہنا ہے کہ غیر ملیکوں کے خیالات کے برعکس ایران میں یہودی برادری کیساتھ بُرا سلوک نہیں کیا جاتا ہے اور ہماری صورتحال بہت اچھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں مقیم یہودی برداری کے اکثر شہری دکاندار ہیں حلانکہ کچھ ڈاکٹر اور انجینیئر بھی ہیں۔
جرمن اخبار "دویچہ ولہ" نے بھی گزشتہ مہینوں میں اپنی رپورٹ میں ایران میں موجود یہودی برادری کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران میں پُرسکوں زندگی گزارتے ہیں۔

دویچہ ولہ کی رپورٹ کے مطابق ایران میں موجود یہودی پیروکار، بغیر کسی پابندی کے اپنے مذہبی رسومات اور فرائض کو سرانجام دیتے ہیں اور ان کو دوسرے مسلم ایرانی شہریوں کی طرح شہریت کے حقوق کی فراہمی کی جاتی ہے۔

اگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران میں شاہی نظام کا تختہ الٹنے کے بعد ناجائز صہیونی ریاست، ایران کی سب بڑی دشمن میں تبدیل ہوگئی تا ہم ایران کے تمام سیاسی اور مذہبی حکام نے کہا ہے کہ ان کا یہودی برادری کیساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ان کا مسئلہ ناجائز صہیونی ریاست کیساتھ ہے۔

بانی اسلامی انقلاب حضرت امام خمینی (رح) نے فرمایا ہے کہ ایران کے نقطہ نظر سے اسلامی جمہوریہ ایران میں موجود یہودی برادری کا ناجائز صہیونی ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 10 =