29 ستمبر، 2019 11:32 AM
Journalist ID: 2393
News Code: 83495313
0 Persons
صدر روحانی کے دورہ نیویارک کے ثمرات

تہران، ارنا - اعلی سطحی ایرانی وفد کے خلاف امریکی ناروا رویے اور ویزوں کے اجرا میں روڑے اکٹانے کے با وجود امریکہ، صدر حسن روحانی کی اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت اور زبردست سفارتکاری کو متاثر نہ کرسکا.

دورہ نیویارک کے موقع پر امریکی انتظامیہ نے ایرانی وفد بالخصوص صدر روحانی اور وزیر خارجہ کی آمد و رفت میں شدید پابندی لگائی مگر ان تمام مشکلات کے باوجود ایرانی وفد اپنے مشن میں کامیاب رہا.
اس سال ڈاکٹر روحانی کی اقوام متحدہ آمد ایک ایسے موقع پر ہوئی جب مشرق وسطی میں آئے روز نئی تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں اور دوسری جانب ایران، امریکہ اور بعض خطی ممالک میں تناو بڑھ چکا ہے اور ایران مخالف الزامات اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی میں بھی شدت آئی.
وائٹ ہاؤس ایرانی سفارت کاری کی طاقت اور اثر و رسوخ سے بخوبی واقف ہے، اسی وجہ سے ایرانی شخصیات خاص طور پر ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پر بہت سی پابندیاں عائد کردی تا کہ بین الاقوامی میڈیا اور شخصیات کو ایرانی وزیر خارجہ تک رسائی میں رکاوٹ ڈالے اور ایرانی حقانیت کی آواز کو خاموش کرے.
٭٭ نیویارک میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ ایرانی صدر کی متعدد ملاقاتیں
رواں سال کو امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی وفد پر لگائی جانے والی پابندیوں کے باوجود بہت سے نامور شخصیات، ملاقات کے لیے ایرانی وفد کی رہائش گاہ پر تشریف لائے تھے اور اس بات سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ امریکی پابندیاں نہ صرف موثر نہ تھیں بلکہ ایرانی وفد نے پچھلے سالوں کی بہ نسبت سب سے زیادہ ملاقاتیں کیں۔
نیو یارک میں قیام کے دوران فرانس، پاکستان، برطانیہ، جرمنی، سویڈن، بھارت، سوئٹرزلینڈ، عراق، اوکینڈا، آئرلینڈ، جاپان اور سپین کے سربراہان مملکت اور اعلی رہنماوں نے صدر روحانی سے ملاقاتیں کیں اور اس کے علاوہ صدر مملکت نے اہم بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویوز دئے.
**جوہری معاہدے پر امریکی واپسی، مذاکرات کا واحد طریقہ
امریکہ نے گزشتہ چند مہینوں سے ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کا آغاز کیا ہے جو کارآمد ثابت نہ ہوسکی.
ایرانی صدر نے اپنے انٹرویوز اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں اپنی تقریر میں بھی واضح طور پر کہا کہ جوہری معاہدے پر امریکی واپسی، ایران اور واشنگٹن کے درمیان باہمی مذاکرات کا واحد طریقہ ہے.
روحانی نے مزید کہا کہ پابندیوں کے تحت مذاکرات کرنے کے لیے ہمارا جواب 'نہیں' ہے اگر امریکہ مثبت جواب چاہتا ہے جیسا کہ ایرانی سپریم لیڈر نے فرمایا ہے امریکہ کو پہلے جوہری معاہدے کے وعدوں پر واپس آنا ہوگا.
٭٭ 'ہرمز امن منصوبہ' کے ساتھ خطے میں امن کی واپسی
امریکہ اور ان کے اتحادی کی جانب سے مشرقی وسطی میں تناو کا پھیلاو اور ایران کے خلاف مسلسل الزام تراشی کے باوجود ایرانی صدر جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں "آبنائے ہرمز، امن کا منصوبہ' کو پیش کردی جس کا مقصد خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور تمام خطی ممالک کے لئے سلامتی، امن، استحکام اور خوشحالی کو برقرار رکھنا ہے۔
اس منصوبہ کا انگریزی نام یعنی Hormuz Peace Initiative کے سب سے ابتدائی حروف کو ایک دوسرے کیساتھ جوڑنے سے Hope یعنی وہی امید کا لفظ کی تشکیل ہوجاتا ہے لہذا اس اتحادی کو "امید کی اتحادی" کا نام رکھا کیا گیا ہے.
امریکہ او ان کے اتحادی کے برعکس جو دوسرے ممالک کے خلاف جنگ کے ڈھول پر بجا رہے ہیں، ایرانی صدر نے اقوام متحدہ میں 'ہرمز امن منصوبہ' کے ساتھ ایک بار پھر ثابت کردیا کہ ایران دنیا اور خطے کی سلامتی کے سوا کچھ نہیں چاہتا ہے.
9410*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 7 =