ایران میں ادویات اور طبی شعبے پر امریکی پابندیاں، معاشی دہشتگردی کی واضح مثال ہیں: ظریف

نیویارک، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے ادویات اور طبی شعبے پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشتگردی کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری امریکہ اور اس کے حامیوں کو لگام دے.

یہ بات "محمد جواد ظریف" نے جمعہ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر پبلک انشورنس کی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے حواریوں کو ایران سے متعلق معاشی دہشتگردی سے دستبرداری پر مجبور کرے.
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کی شق نمبر 29 کے مطابق، صحت اور طبی سروسز تک رسائی انسانی حقوق کا اصل جز ہے جو معاشرے میں انصاف کی فراہمی کے لئے بھی ناگزیر ہے.

ظریف نے کہا کہ حالیہ چار دہائیوں کے دوران ہمارے ملک ںے پبلک انشورنس میں بہت ہی کامیابیاں حاصل کی ہے اور بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی ترقی ان میں سے ایک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس ترقی کے نتیجے میں ایرانی عوام کے 90 فیصد سے زائد صحت انشورنس حاصل کی گئی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے پڑوسیوں اور علاقائی ممالک کو صحت کی دیکھ بھال فراہم کی ہے۔
انہوں نے ایرانی عوام کے خلاف امریکی معاشی دہشتگردی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی وجہ سے طبی اور ہسپتال کے سامان کی خریداری کے لئے عام مالی لین دین کو روکا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اس اقدامات نہ صرف سلامتی کونسل کی 2231 قرارداد بلکہ عالمی عدالت انصاف کے جاری رکھنے والے عبوری حکم کی خلاف ورزی ہے اور عالمی برداری کو امریکہ اور معاشی دہشتگردی کے حامیوں کو اس طرز کو روکنے پر مجبور کرنا ہوگا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 11 =