امریکہ پیشگی شرط ختم کرے مذاکرات کا امکان ہوگا: ایرانی صدر

نیویارک، ارنا – ایرانی صدر مملکت نے کہا ہے کہا کہ اگر امریکہ پابندیاں، زیادہ سے زیادہ دباؤ اور پیشگی شرط کو خاتمہ کرے تو مذاکرات کا امکان ہوگا۔

یہ بات "حسن روحانی" نے جمعرات کے روز نیویارک میں اپنی پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

 ایرانی صدر مملکت نے کہا کہ ہمارے لئے بہت ہی اہم ہے کہ امریکہ اپنے وعدوں پر ایک بار پھر واپس آئے اور عالمی معاہدوں سمیت جوہری معاہدے پر قائم رہے۔
اس موقع پر انہوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات آرامکو کے حملے پر ایران مخالف الزمات کے سوال کے جواب میں کہا کہ یمنی عوام کو اپنے قانونی دفاع کا حق حاصل ہے اور تمام دنیا جانتا ہے کہ یمنی فوج پرطاقت میزائل اور ڈرون کے صاحب ہیں اور دوسروں پر الزامات لگانے والوں کو حقیقی دستاویزات پیش کرنا ہوگا۔

صدر روحانی نے جوہری معاہدے پر یورپ کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یورپ نے جوہری معاہدوں کے دوسرے وعدوں پر عملدرآمد کرنے کے لئے مختلف باتیں اور منصوبے سمیت مرکزی بینک، ایس پی وی، اینسٹکس کو پیش کیا مگر ابھی تک کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ چار مہینے میں یورپ کہ اعلان کردیا کہ اگر وہ اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہ کریں تو ایران بھی آہستہ آہستہ اپنے جوہری وعدوں میں کمی لائے گا اور اب تک تین مرحلوں میں اپنے وعدوں کی کمی کے فیصلے کا اٹھایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دوسرے 60 روزہ الٹی میٹم کے خاتمے تک یورپ اپنے وعدوں پر عمل کریں ورنہ اس کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاہدوں کے وعدوں کے دوسرے مرحلوں کا فیصلہ کریں گے۔

جوہری ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہیں


ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ہم جوہری ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہیں، دباؤ ڈالنا نہیں چاہتے ہیں، ہم جوہری معاہدوں کے وعدوں پر عملدرآمد کرنے کے لئے کوشش کررہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ سب فریقین اپنے مکمل وعدوں پر قائم رہیں، اگر وہ اپنے وعدوں پر واپس آئیں تو ہم جلد اپنے وعدوں پر واپس آئیں گے۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان اصلی مسئلہ یمن کے خلاف جنگ ہے


روحانی نے یمن کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ یمنی جنگ کو خاتمہ کیا جانا چاہئیے اور یہ جنگ کسی بھی مفاد میں نہیں اور ہمیں امن کے راستے پر قدم چلنا چاہئیے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا اصلی مشکل یمن کے خلاف جنگ ہے، اگر یمن میں جنگ بند ہوجائے سعودیوں کے ساتھ مسائل کو خاتمہ کیا جائے گا۔

برطانوی تیل بردار جہاز رہا کردیا جائے گا

ایرانی صدر نے زیر حراست برطانوی تیل بردار جہاز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عدلیہ میں اس مسئلے کے آخری اقدامات اٹھایا جاتا ہے اور ہماری پیشگوئی ہے کہ "اسٹینا ایمپایر" آئل ٹینکر جلد رہا کردیا جائے گا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 0 =