امریکہ اور صہیونیوں کے علاوہ کسی ملک سے مذاکرات کا راستہ بند نہیں: آیت اللہ خامنہ ای

تہران، ارنا - سپریم لیڈر ایران نے یہ بات واضح کردی ہے کہ سوائے امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کے کسی بھی ملک کے ساتھ تعاون اور مذاکرات کے لئے راستہ بند نہیں ہے.

ان خیالات کا اظہار "آیت اللہ خامنہ ای" نے جمعرات کے روز ایرانی گارڈین کونسل کے اراکین کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر انہوں نے امریکی صدر کے حالیہ بیانات جو اگر ایران امریکی مطالبات کو پورا کرے ان کے عوام کی صورتحال میں بہتری آئے گی، کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ امریکی اور یورپی حکام اور میڈیا کی جانب سے مسلسل طور پر ایسے موضوعات کو دہرانے کا مقصد "آپ نہیں کرسکتے ہیں، آپ کمزور ہیں" پیش کرنا ہے مگر ایرانی عوام اس منفی پروپیگنڈے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
قائد اسلامی انقلاب نے فرمایا کہ ہم ہرگز اسلامی نظام کے دشمن سمیت امریکہ اور بعض یورپی ممالک کے ساتھ تعامل اور مذاکرات نہیں کریں گے کیونکہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اصلی دشمن ہیں۔
انہوں نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران سے یورپ کی دشمنی کے مقاصد بنیادی طور پر امریکہ سے مختلف نہیں ہیں اور وہ ثالثی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں صرف لمبے لمبے الفاظ کہتے ہیں ، لیکن یہ سب مضحکہ خیز ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے جوہری معاہدے سے امریکہ علیحدگی کے بعد یورپ کی بدعہدی پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یورپ اپنے وعدوں کے باوجود امریکی پابندیوں پر قائم رہا تھا جنہوں نے کوئی مثبت اقدام نہیں اٹھایا۔
رہبر معظم فرمایا کہ یورپ کے ساتھ ملاقاتیں اور معاہدوں پر دستخط کرنے میں کوئی مشکل نہیں مگر بالکل اس پر بھروسہ نہیں کیا جانا چاہئیے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ یورپ نے اپنے 11 وعدوں پر عمل نہیں کیا اسی وجہ سے کوئی مسئلے میں ان پر بھروسہ نہیں کرنا ہوگا۔
انہوں ںے فرمایا کہ ایسے تمام دشمنوں کے باوجود اسلامی نظام نہ صرف گزشتہ 40 سال بلکہ دس سال سے پہلے طاقتور ہوگیا ہے اور خطے میں ان کی سیاسی اور انقلابی اقتدار بڑھ کی گئی ہے۔
انہوں نے یورپی اور امریکی اقتصادی، سیاسی اور سماجی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا اصلی دشمن ہے اور آج دنیا بھر میں سب سے زیادہ منفور حکومت بن گئی ہے اور یورپ نے خود کو اعتراف کیا کہ ان کی طاقت کمزور ہو رہی ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 2 =