امریکہ کی غیرانسانی پابندیوں نے ہمیں مزید متحد کردیا: ایرانی صدر

تہران، ارنا - ایران کے صدر مملکت نے کہا ہے کہ امریکہ، غیرانسانی پابندیوں کے ذریعے نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہوا بلکہ ان پابندیوں نے ایرانی قوم کو مزید متحد کردیا ہے.

ان خیالات "حسن روحانی" نے روز نیویارک میں امریکی دانشوروں اور اہم سیاسی مبصرین کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے کہا کہ امریکی خیالات کے برعکس ان کے بے جا دباؤ کی وجہ سے آج ایران میں تمام حلقے امریکہ کو ہی موجودہ مشکلات کی اصلی جڑ سمجھتے ہیں.
صدر روحانی نے کہا کہ عالمی جوہری معاہدہ بہترین سمجھوتہ تھا جبکہ امریکی علیحدگی کے باوجود عالمی جوہری توانائی ادارے کی متعدد رپورٹس نے اسلامی جمہوریہ ایران کی دیانتداری کی تصدیق کی.
انہوں نے کہا کہ اگر امریکی کانگریس ایران مخالف تمام پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاہدے کی منظوری کو یقینی بنائے تو ہم بھی ایرانی پارلیمنٹ میں نیوکلیئر سیف گارڈ سے متعلق قانون معاہدے کو پاس کروانے کے لئے تیار ہیں.
انہوں نے خطے میں بدامنی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور یورپی ممالک یمنی عوام پر بمباری کرنے والوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں، تیل تنصیبات پر حملے سے متعلق ایران مخالف الزامات لگانے والے ممالک یمن کے جنگ میں شریک ہیں لہذا ان ملکوں کی پالیسی میں نظرثانی کی ضرورت ہے دوسری صورت میں ان کے تباہ کن نتائج حاصل ہوں گے.
روحانی نے کہا کہ ایران سے متعلق دو اہم باتوں کو سمجھنا ضروری ہے پہلی بات یہ کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا اور دوسری بات، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کے مطابق ہم خطے میں قیام امن چاہتے ہیں اور ہرمز امن منصوبے میں دوسرے ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہیں.
انہوں نے خطے میں خطرناک صورتحال اور تنازعات کو روکنے کو تمام ممالک کی ذمہ داری قرار دیا اور سعودی تیل تنصیبات پر حالیہ حملے کے حوالے سے ایران مخالف امریکی الزامات کے جواب میں کہا کہ بے بنیاد الزامات کے بجائے حقیقی دستاویزات اور سیٹیلائٹ کے ذریعے حاصل کی جانے والی درست تصاویر کو پیش کیا جائے.
انہوں نے کہا کہ قیدیوں کا مسئلہ ایک انسانی موضوع ہے اور ان کی صورتحال پر مذاکرات کرنے سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے.
ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ناجائز صہیونی ریاست کو ہرگز تسلیم نہیں کرے گا تاہم یہودی برادری کے ساتھ اچھے رابطے ہیں جبکہ یہودی پیروکار آزادانہ طور پر ایران میں زندگی بسر کررہے ہیں.
انہوں نے کہا کہ صہیونیوں نے پڑوسی ملکوں کی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی کرکے بارہا شام پر جارحیت بھی کی ہے.
صدر روحانی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے کی امریکی پالیسی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، امریکہ خود جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوکر مذاکرات کی میز سے اٹھ گیا تھا لہذا اسے خود اب مذاکرات کے لئے سازگار ماحول بنانا ہوگا.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 2 =