امریکہ، مذاکرات کیلئے پہلے دباو کی شرط ختم کرے: ایرانی صدر

تہران، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ ایران سے مذاکرات چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے زیادہ سے زیادہ دباؤ جاری رکھنے کی شرط کو ختم کرنا ہوگا.

یہ بات "حسن روحانی" نے بدھ کے روز امریکی امریکی ٹی وی نیوز چینل اے بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران یمنی مظلوم عوام کے خلاف بمباری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ مہینوں میں یمنی مسلح افواج نے بہت ہی کامیابیاں حاصل کی ہیں، خطے میں تنازعات کے خاتمے کا حل امن اور سیکورٹی کی ترقی ہے لہذا یمن میں جنگ کے خاتمے کی ضرورت ہے اور امریکہ کو ایرانی عوام کے خلاف غیرقانونی دباؤ کو خاتمہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت کے لئے بہت شرمناک ہے کہ سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات اور عراق میں اپنے مختلف ریڈار اور ساز و سامان کے باوجود ایک میزائل کو روک اور تباہ نہیں کرسکا، انہوں نے ایران پر بے بنیاد الزمات لگا دیا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ یمن نے حملہ کیا، اگر اس ملک کے خلاف جنگ کو خاتمہ نہیں کیا جائے تو وہ زیادہ حملے کریں گے۔
انہوں نے تین یورپی ممالک کے ایران مخالف الزامات بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اپنے دعوے کے اثبات کے لئے حقیقی دستاویزات پیش کرنا چاہئیے، ان تین ممالک یمن کے خلاف امریکی جنگ میں شریک ہیں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیار بھیج رہے ہیں۔
صدر روحانی نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کے یہ اقدام ان کے خود، ایرانی عوام اور ہمارے تجارتی شراکت داری ممالک کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ معاشی دہشتگردی پیش کی گئی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پابندیوں سے ایران میں عام شہری اور نہتے بیماروں کو نشانہ بنایا ہے.
صدر روحانی نے کہا کہ امریکہ نے غیرقانونی پابندیوں کے ذریعے ایران میں عام آدمی، بچے اور نہتے مریضوں کو نشانہ بنایا ہے.
انہوں نے کہا کہ امریکی پابندیاں مریض افراد، بچے اور تمام عوام پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے اور ایرانی عوام اپنی ہوشیاری کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ ان تمام اقدامات کی ذمہ دار امریکہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی 16 رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران اپنے تمام وعدوں پر قائم ہے اور امریکی پابندیاں غیرقانونی اور سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کے باوجود ہمارے ملک نے گزشتہ تین مہینے کے دوران معاشی اور اقتصادی لحاظ سے بہت ہی ترقی کی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عالمی جوہری معاہدے کی تصدیق کی مگر امریکی حکومت اس سے علیحدہ ہوگئی اور امریکہ کے اس اقدام سلامتی کونسل کی 2231 قرارداد کی خلاف ورزی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکی علیحدگی کے بعد ایک سال کا یورپ کے وعدوں پر عملدرآمد کرنے کے لئے انتظار کیا مگر وہ کوئی مناسب اقدام نہیں کرسکا لہذا ہم نے جوہری معاہدے کی شق نمبروں 26 اور 36 کے مطابق اپنے جوہری وعدوں میں کمی لانے کا آغاز کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ اگر یورپ اگلے دو مہینے تک اپنے وعدوں پر عمل نہ کرے تو ہم تیسرے مرحلے کا فیصلہ کریں گے۔
روحانی نے کہا کہ جوہری وعدوں کی کمی کے باوجود عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی ہماری تمام جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کر رہی ہے لہذا جن ممالک کا دعوی کرتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرتا ہے ان کے دعوے بالکل غلطی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا یورپ سے متعلق نہیں ہے اور ان کو اپنے وعدوں پر قائم رہنا چاہئیے۔ انہوں نے امریکی علیحدگی کے بعد اا وعدوں پر عملدرآمد کرنے کا وعدہ دیا مگر ایک سال کے گزرنے کے باوجود ابھی بھی کوئی مناسب اقدام نہیں اٹھایا ہے لہذا ان کو اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی ادا کرنا نہیں ہوگا۔
روحانی نے ایرانی اور امریکی صدور کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ پہلا 2015 امریکی حکومت کے وعدوں پر عمل کرے تو پھر فون کی ضرورت ہو تو ایک دوسرے سے بات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ علاقے اور دنیا کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنا ہمارے لئے بہت ہی اہم ہے اور امریکی حکومت نے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے ساتھ باہمی بھروسہ کو تباہ کردیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 8 =