پڑوسیوں کو «اتحادِ امید» اور «ہرمز امن منصوبے» میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں: ایرانی صدر

نیو یارک، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ کی 74ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خلیج فارس میں امن و سلامتی کے مقصد سے تمام پڑوسی ملکوں کو امن کے اتحاد اور ہرمز امن منصوبے میں شمولیت کی دعوت دی ہے.

ڈاکٹر روحانی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی سلامتی، خوشحالی اور ترقی سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کی اہم ذمہ داری کے پیش نظر تمام ہمسایہ ممالک کو اس ضمن میں تعمیری تعاون کی پیشکش کرتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا ہے کہ جو ممالک خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے واقعات سے متاثر ہوتے ہیں، انھیں امن کے اتحاد اور ہرمز امن منصوبے میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں.

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ «اتحادِ امید» کا اصل مقصد آبنائے ہرمز میں واقع تمام قوموں کی خوشحالی، ترقی اور سلامتی کو فراہم کرنا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی تجویز کردہ منصوبے میں آبنائے ہرمز اور اس آگے کے سمندری علاقوں میں آزاد اور پُرامن جہازرانی، تیل اور توانائی تک آسانی رسائی اور تمام ممالک کو ایندھن ضروریات فراہم کرنا شامل ہیں.

**بیرونی اتحاد خطے میں کشیدگی کا باعث بنتے ہیں

صدر روحانی نے کہا کہ خطے میں غیر ملکی فوجیوں کی قیادت میں ہر کسی قسم کے سیکورٹی اتحاد کی تشکیل چاہے کسی بھی عنوان کے تحت بھی ہو وہ بیرونی مداخلت کے مترادف ہے اور کشیدگی میں اضافہ ہونے سمیت علاقے میں قیام امن، سلامتی اور استحکام کوخطرے کا سامنا کرے گا۔

**خطے میں قیام سلامتی، امریکی فوجیوں کے انخلا سے فراہم ہوگی

صدر روحانی نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں قیام سلامتی، امریکی فوجیوں کے انخلا سے فراہم ہوگی نہ کہ ان کی مداخت اور ہتھیاروں سے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ 18سالوں کے اندر دہشتگردانہ اقدامات میں کمی نہ لاسکی تاہم اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمسایہ ممالک کے تعاون سے داعش دہشتگرد گروپ کا خاتمہ دے دیا۔

ایرانی صدر نے ہمسایہ ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ممالک میں قیام امن و سلامتی اسلامی جمہوریہ ایران میں قیام امن و سلامتی کے مترداف ہے۔ امریکہ، آپ اور ہماری پڑوسی نہیں ہے بلکہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے جو آپ کی پڑوسی ہے۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ ہمیں سیکھایا گیا ہے کہ سب سے پہلے اپنے ہمسایوں پر توجہ دینی چاہیے اور پھر اپنے آپ کی طرف توجہ دینی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دشوار حالات میں ہم اور آپ اکیلے رہیں گے؛ ہم ایک دوسرے کیساتھ ہمسایہ ہیں نہ کہ امریکہ کیساتھ۔

** امریکہ، پابندیوں کا خاتمہ دے تا کہ مذاکرات کیلئے راستہ ہموار ہوجائے

صدر روحانی نے پابندیاں لگانے اور دباؤ ڈالنے کے ذریعے ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کی امریکی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام اور حکومت کے نمائندے کے طور پر کہتے ہیں کہ ہم پابندیوں کے ہوتے ہوئے کبھی مذاکرات نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت اور عوام نے گزشتہ ڈھائی سال سے اب تک شدید پابندیوں کیخلاف مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ کبھی ان دشمنوں سے مذاکرات نہیں کریں گے جو پابندیوں، دباؤ اور غربت کی ہتھیار سے ان کو مذاکرات پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔

ایرانی صدر نے ٹرمپ انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات کے لیئے مثبت جواب سننا چاہتے ہیں تو ایران مخالف پابندیوں کا خاتمہ دیں تا کہ مذاکرات کیلئے راستہ ہموار ہوجائے۔

** فلسطین، مشرق وسطی کی سب سے بڑی قربانی

ایرانی صدر نے مشرق وسطی کی صورتحال سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطی، جنگ، خونریزی، جارحیت، بیرونی قبضہ، مذہبی اور فرقہ وارانہ تعصب اور انتہا پسندی کی آگ میں جلتا ہے اور ایسے حالات کا سب سے بڑا شکار مظلوم فلسطینی قوم ہیں اور وہاں امتیازی سلوک، زمینوں پر قبضہ اور قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے۔

** مذاکرات کی میز پر واپس آئیں

ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کو ایک بہت بڑا خطرہ کا شکار ہے اور ہم بیرونی ممالک کی مشتعل انگیز اور مداخلت پر مبنی اقدامات کا برداشت نہیں کریں گے اور اپنی سرزمین اور قومی خودمختاری اور سالیمت کیخلاف ہر کسی قسم کی جارحیت کا بھر پور جواب دیں گے۔

صدر روحانی مزید کہا کہ لیکن دوسرا راستہ جو ہماری مطلوبہ راستہ بھی ہے وہی خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں موجود تمام ممالک اور قوموں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی ہے۔

ایرانی صدر مملکت نے آخر میں ایرانی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آئیے جنگ اور تشدد میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے بہتر مستقبل کی امید پر سرمایہ کاری کریں"۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "آئیے انصاف، امن، قانون، اپنے کیے گئے وعدوں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں"۔

*274**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 16 =