جرمن چانسلر کا ایرانی تجویز «ہرمز امن منصوبہ» میں دلچسپی کا اظہار

تہران، ارنا - جرمن چانسلر نے ایران کے صدر حسن روحانی کے ساتھ ایک ملاقات میں «ہرمز امن منصوبہ» کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بڑی دلچسپی سے اس منصوبے کا جائزہ لینا چاہتی ہیں.

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت حسن روحانی" نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر خاتون جرمن چانسلر آنجیلا مرکل سے پہلی بار کیلئے ملاقات کی۔
اس ملاقات میں دونوں فریقین نے باہمی تعاون سمیت ایران جوہری معاہدے کے تحفظ اور خطے کی کشیدگی میں کمی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
فریقین نے اس ملاقات کے دوران جوہری معاہدے کو بچانے، اینسٹیکس مکنیزم کے جلد از جلد نفاذ اور باہمی تعلقات کو وسعت دینے پر زور دیا.
صدر روحانی نے کہا کہ جرمن کو ایران کا ایک بڑا پارٹنر قرار دیتے ہوئےدونوں ممالک کے درمیان ایسے دوستانہ اور روایتی تعلقات کے تسلسل پر زور دیا.
انہوں نے جوہری معاہدے کے بچانے کے لیے فریقین خاص طور پر جرمن کے فرائض اور ذمہ داریوں پر عمل درآمد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فرانس ، برطانیہ اور جرمنی کا حالیہ ایران مخالف بیان ایک بے بنیاد الزام ہے.
اس موقع میں آنجلا مرکل نے جوہری معاہدے کے تسلسل کی حمایت کے علاوہ اس اہم بین الاقوامی معاہدے کا احترام کرنے اور پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دوسرے یورپی ممالک خاص طور پر جرمن کی جانب سے اینسٹیکس مکنیزم کو جلد نافذ کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا.
جرمن خاتون نے «ہرمز امن منصوبہ کےحوالے سے کہا کہ ہم اس تجویز کا خیرمقدم کر کے خطی تناو کی کمی کیلیے کسی بھی سنجیدہ اقدام کی حمایت کریں گے.
قابل ذکر ہے کہ ایران صدر آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کریں گے.
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے پیر کے روز نیویارک کے دورے پر پہنچ گئے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے اس سے پہلے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سمیت فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون ، جرمن چانسلر" آنجیلا مرکل"، جاپانی وزیر اعظم 'شنزو آبے' اور ہسپانوی وزیر اعظم 'پیدرو سنچز' کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
9410*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 8 =