ایران اور سوئٹزرلینڈ کے صدور کے درمیان ملاقات، باہمی تعلقات پر گفتگو

نیویارک، ارنا – سوئٹزرلینڈ کے صدر نے آج ایرانی صدر کے ساتھ ایک ملاقات میں دونوں ممالک کےدرمیان 100 سالہ روابط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے باہمی تعلقات کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایرانی صدر 'حسن روحانی' نے آج بروز منگل نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر سوئٹرز لینڈ کے ہم منصب 'اولی مائورر' کے ساتھ ملاقات کی۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے گزشتہ روز نیویارک کے دورے پر پہنچ گئے۔

وہ "آبنائے ہرمز کا قیام امن " کی تجویز سے ایرانی عوام کے امن پسندانہ پیغام کو دنیا تک رسائی کیلئے مقامی وقت کے مطابق پیر کے دوپہر کو نیویارک کی "جان ایف کنڈی" ایئرپورٹ پر پہنچ گئے۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک روانگی سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دورہ نیوریاک کے موقع پر خطے میں قیام امن کے حوالے سے ایک نئی تجویز پیش کریں گے جو خلیج فارس میں تمام خطی ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی ہے۔

انہوں نے مزید کہ کہ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو صرف خطی سلامتی کے حوالے سے نہیں بلکہ خطے کی معیشیت کے حوالے سے بھی ہے اور ہماری خواہش ہے کہ تمام خطی ممالک اس منصوبہ میں حصہ لیں۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا نام "آبنائے ہرمز، امن کا منصوبہ" ہے جس کا انگریزی نام یعنی Hormuz Peace Initiative کے سب سے ابتدائی حروف کو ایک دوسرے کیساتھ جوڑنے سے Hope یعنی وہی امید کا لفظ کی تشکیل ہوجاتا ہے لہذا اس اتحادی کو "امید کی اتحادی" کا نام رکھا کیا گیا ہے اور تمام خطی ممالک سمیت خلیج فارس کے ساحلی ممالک کو بھی اس اتحادی میں شرکت کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیونکہ ابھی اس منصوبہ کو تفصیل سے پیش نہیں کی گئی تو ابھی دوسروں کا رد عمل واضح نہیں ہے تاہم  امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے اس منصوبے کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں اور پھر اس کے بعد اس کا اس کا جائزہ لیں گے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت اس سے پہلے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سمیت فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون ، جرمن چانسلر" آنجیلا مرکل"، جاپانی وزیر اعظم 'شنزو آبے' اور ہسپانوی وزیر اعظم 'پیدرو سنچز' کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

 9410*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 8 =