صدر روحانی کا جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے جاپانی کوششوں پر شکریہ

نیویارک، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے جاپانی وزیراعظم کیساتھ ایک ملاقات میں باہمی تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے جاپان کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر جاپانی صدر "شنزو ابے" کیساتھ ملاقات کی۔

اس موقع پر ایرانی صدر نے جاپانی وزیر اعظم کے حالیہ دورہ ایران کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے جلد  نفاذ پر زور دیا۔

صدر روحانی نے باہمی تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے جاپان کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر جاپانی وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک ایران جوہری معاہدے کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھےگا۔

شنزو ابے نے اپنے حالیہ دورہ ایران پر تبصرہ کرتے ہوئے قائد اسلامی انقلاب سے ان کی ملاقات اور جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایرانی سپریم لیڈر کے فتوی سمیت خطے میں ایرانی صدر کے امن پسندانہ موقف سے اپنی مسرت کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جاپان، ایران کا تاریخی دوست ہے اور خطے کی کشیدگی میں کمی لانے کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے گزشتہ روز نیویارک کے دورے پر پہنچ گئے۔

وہ "آبنائے ہرمز کا قیام امن " کی تجویز سے ایرانی عوام کے امن پسندانہ پیغام کو دنیا تک رسائی کیلئے مقامی وقت کے مطابق پیر کے دوپہر کو نیویارک کی "جان ایف کنڈی" ایئرپورٹ پر پہنچ گئے۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک روانگی سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دورہ نیوریاک کے موقع پر خطے میں قیام امن کے حوالے سے ایک نئی تجویز پیش کریں گے جو خلیج فارس میں تمام خطی ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی ہے۔

انہوں نے مزید کہ کہ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو صرف خطی سلامتی کے حوالے سے نہیں بلکہ خطے کی معیشیت کے حوالے سے بھی ہے اور ہماری خواہش ہے کہ تمام خطی ممالک اس منصوبہ میں حصہ لیں۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا نام "آبنائے ہرمز، امن کا منصوبہ" ہے جس کا انگریزی نام یعنی Hormuz Peace Initiative کے سب سے ابتدائی حروف کو ایک دوسرے کیساتھ جوڑنے سے Hope یعنی وہی امید کا لفظ کی تشکیل ہوجاتا ہے لہذا اس اتحادی کو "امید کی اتحادی" کا نام رکھا کیا گیا ہے اور تمام خطی ممالک سمیت خلیج فارس کے ساحلی ممالک کو بھی اس اتحادی میں شرکت کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیونکہ ابھی اس منصوبہ کو تفصیل سے پیش نہیں کی گئی تو ابھی دوسروں کا رد عمل واضح نہیں ہے تاہم امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے اس منصوبے کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں اور پھر اس کے بعد اس کا اس کا جائزہ لیں گے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت اس سے پہلے جاپان اور پاکستان کے وزرائے اعظم سمیت فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

صدر روحانی جاپان، سپین اور برطانیہ کے وزرائے اعظم سمیت بولیویا اور سوئٹزرلینڈ کے صدور سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 1 =