24 ستمبر، 2019 7:52 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83489593
0 Persons
ایرانی صدر اور جرمن چانسلر کی پہلی ملاقات

نیویارک، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر خاتون جرمن چانسلرسے پہلی بار کیلئے ملاقات کی۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر "حسن روحانی" نے منگل کے روز " آنجیلا مرکل" کیساتھ ملاقات کی۔

اس ملاقات میں دونوں فریقین نے باہمی تعاون سمیت ایران جوہری معاہدے کے تحفظ اور خطے کی کشیدگی میں کمی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے گزشتہ روز نیویارک کے دورے پر پہنچ گئے۔

وہ "آبنائے ہرمز کا قیام امن " کی تجویز سے ایرانی عوام کے امن پسندانہ پیغام کو دنیا تک رسائی کیلئے مقامی وقت کے مطابق پیر کے دوپہر کو نیویارک کی "جان ایف کنڈی" ایئرپورٹ پر پہنچ گئے۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک روانگی سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دورہ نیوریاک کے موقع پر خطے میں قیام امن کے حوالے سے ایک نئی تجویز پیش کریں گے جو خلیج فارس میں تمام خطی ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی ہے۔

انہوں نے مزید کہ کہ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو صرف خطی سلامتی کے حوالے سے نہیں بلکہ خطے کی معیشیت کے حوالے سے بھی ہے اور ہماری خواہش ہے کہ تمام خطی ممالک اس منصوبہ میں حصہ لیں۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا نام "آبنائے ہرمز، امن کا منصوبہ" ہے جس کا انگریزی نام یعنی Hormuz Peace Initiative کے سب سے ابتدائی حروف کو ایک دوسرے کیساتھ جوڑنے سے Hope یعنی وہی امید کا لفظ کی تشکیل ہوجاتا ہے لہذا اس اتحادی کو "امید کی اتحادی" کا نام رکھا کیا گیا ہے اور تمام خطی ممالک سمیت خلیج فارس کے ساحلی ممالک کو بھی اس اتحادی میں شرکت کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیونکہ ابھی اس منصوبہ کو تفصیل سے پیش نہیں کی گئی تو ابھی دوسروں کا رد عمل واضح نہیں ہے تاہم  امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے اس منصوبے کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں اور پھر اس کے بعد اس کا اس کا جائزہ لیں گے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت اس سے پہلے جاپان اور پاکستان کے وزرائے اعظم سمیت فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

صدر روحانی جاپان، سپین اور برطانیہ کے وزرائے اعظم سمیت بولیویا اور سوئٹزرلینڈ کے صدور سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 0 =