23 ستمبر، 2019 11:10 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83488090
0 Persons
ایرانی صدر نیویارک کے دورے پر پہنچ گئے

نیویارک، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے نیویارک کے دورے پر پہنچ گئے۔

وہ "آبنائے ہرمز، امن کا منصوبہ" کی تجویز سے ایرانی عوام کے امن پسندانہ پیغام کو دنیا تک رسائی کیلئے مقامی وقت کے مطابق پیر کے دوپہر کو نیویارک کی "جان ایف کنڈی" ایئرپورٹ پر پہنچ گئے۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے علاوہ، اس اجلاس میں شریک دیگر ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کیساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

صدر روحانی نے نیویارک روانگی سے پہلے مہرآباد ایئرپورٹ میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس ایران کیخلاف ظالمانہ اور عدم انصاف پر مبنی اقدمات سمیت خطے کی پیچیدہ صورتحال کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا بہترین موقع ہے۔

انہوں نے ایران کیخلاف امریکی نئی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ظاہر ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے اور پابندیاں لگانے کی امریکی پالیسی کو شکست کا سامنا ہے کیونکہ ایرانی عوام نے گزشتہ ڈھائی سال میں مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ گزشتہ چند مہینوں میں بھی ملک کی معاشی حالت میں بہتری آئی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ ہم پابندیوں کے سامنے مزاحمت کرسکتے ہیں۔

صدر روحانی نے سعودی عرب کی تبل تنصیبات پر حالیہ ڈرون حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان خطے میں اربوں ڈالر پر مشتمل دفاعی سامان کی تنصیب پر معاہدہ طے پانے سے ظاہر ہوتی ہے کہ امریکہ خطے میں اپنے شر انگیز مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے در پے ہیں اور یہ سب خطے میں امریکی موجودگی میں اضافہ کرنے کا ایک بہانہ ہے۔

 ایرانی صدر مملکت نے کہا کہ وہ دورہ نیوریاک کے موقع پر خطے میں قیام امن کے حوالے سے ایک نئی تجویز پیش کریں گے جو خلیج فارس میں تمام خطی ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی ہے۔

انہوں نے مزید کہ کہ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو صرف خطی سلامتی کے حوالے سے نہیں بلکہ خطے کی معیشیت کے حوالے سے بھی ہے اور ہماری خواہش ہے کہ تمام خطی ممالک اس منصوبہ میں حصہ لیں۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ  اس منصوبے کا نام "آبنائے ہرمز، امن کا منصوبہ" ہے جس کا انگریزی نام یعنی Hormuz Peace Initiative کے سب سے ابتدائی حروف کو ایک دوسرے کیساتھ جوڑنے سے Hope یعنی وہی امید کا لفظ کی تشکیل ہوجاتا ہے لہذا اس اتحادی کو "امید کی اتحادی" کا نام رکھا کیا گیا ہے اور تمام خطی ممالک سمیت خلیج فارس کے ساحلی ممالک کو بھی اس اتحادی میں شرکت کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیونکہ ابھی اس منصوبہ کو تفصیل سے پیش نہیں کی گئی تو ابھی دوسروں کا رد عمل واضح نہیں ہے تاہم  امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے اس منصوبے کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں اور پھر اس کے بعد اس کا اس کا جائزہ لیں گے۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 7 =