23 ستمبر، 2019 5:07 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83487772
0 Persons
صدر روحانی کا منصوبہ، دنیا میں قیام سلامتی کا سستا راستہ

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران نے عالمی قیام امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائی ہے جو ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے اتحادی کو اس خودساختہ دشوار حالات سے نجات دلا سکتا ہے۔

امریکیوں کے برعکس جنہوں نے پابندیوں کو بڑھانے کے ذریعے امید کی تمام کرنوں کو بجھا دیا ہے، اسلامی جمہوریہ ایران نئی حکمت عملی اپنانے کے ذریعے دنیا میں قیام امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ اگر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر واپس آئے تو وہ اس بین الاقوامی معاہدے کے فریم ورک کے اندر اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ مذاکرات کرسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک منطقی اور عملی راستہ ہے جو ٹرمپ کو ان کے خودساختہ بند گلی سے رہا کر سکتا ہے اب دیکھنا ہوگا کہ وہ اس راستے کا استعمال کرسکتا ہے یا نہیں کرسکتا ہے؟

اس کے بعد ایرانی صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے دورہ نیویارک کی روانگی سے پہلے علاقے کے بحران کے حل کیلئے ایک جامع اور عملی منصوبے کی تجویز دی اور اس کا نام "آبنائے ہرمز امن کا منصوبہ" رکھا۔

 صدر روحانی نے علاقے کے سیکورٹی مسائل کو حل کرنے کیلئے خطی ممالک سے تعاون کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ تجاویز ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خطے کو بحران کا شکار ہے اور بحران کے حل کے تمام راستے بند ہوگئے ہیں لہذا ایران کیجانب سے پیش کی گئی تجاویز پالیسی کی انڈھیرے میں روشن چراغ جیسے ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ خطی ممالک جنگ اور تباہی کے بجائے اس سنہرے موقع کو استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟

اب تک ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے اتحادی کے طریقے حل سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے؛ نہ امریکی فوجی لشکر کشی اور نہ ہی یمن پر سعودی عرب کے بہیمانہ حملہ جس کے نتیجے میں ہزاروں یمنی سویلین بشمول خواتین اور بچوں کا قتل عام کیا گیا ہے۔

 اس کی وجہ بھی اتنی ہی پیچیدہ نہیں ہے کیونکہ دنیا کی حالات اکیسویں صدی کے مطابق بدل گئی ہے اور دنیا نے امریکی یکطرفہ اقدامات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور دنیا واشنگٹن کی یکطرفہ پن سے آگے بڑھ چکی ہے.

 اب چونکہ کھیل کے قواعد بدل چکے ہیں اور عالمی معیشت ڈالر سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے لہذا اب کم قیمت پر اس حالات سے گزرنے کے تمام شرائط ہمارے لیئے فراہم کیا گیا ہے۔

انصارللہ یمن نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر سخت حملے کے بعد یمنی بحران کے حل کیلئے سعودی عرب کو جنگ کا خاتمہ دینے کیلئے ایک اور موقع دیا۔

یمن نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد ریاض کو خبردار کیا کہ اگر وہ یمنی سویلین کو پھر دوبارہ حملوں کا نشانہ بنائے تو وہ سعودی عرب پر مزید کاری ضرب لگائے گا۔

اب تو خطی مسائل کے حل کیلئے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں کیونکہ موجودہ حالات میں رہنا خطرناک ہونے سمیت غیر متوقع اقدامات کا باعث بھی بن جاتا ہے۔

تمام سیاسی تجزیہ نگاروں اور دنیا کے سارے حکام بھی اس بات پر واقف ہیں کہ مشرق وسطی ایک اور نئی جنگ کی تاب نہیں لاسکتا اور اب بھی خطی کشیدگی اپنی بلندترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور اگر موجودہ حالات جنگ کا باعث بنیں تو سب کو نقصان پہنچے گا اور اس سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

 امریکہ اب جنگ کی آگ کو بھرکا رہا ہے اور ساتھ ساتھ اس بحران کے حل کا کوئی ارادہ نہیں ر کھتا ہے حالانکہ اگر حالات ویسے ہی ر ہیں تو یہ بھی امریکہ کے مفادات میں نہیں ہے۔

 در اصل اگر یہ بحران ویسے ہی جاری ر ہے تو اس سپر پاور کی کمزوریاں بھی مزید سامنے میں آئی ہیں اور ممکنہ جنگ کی صورت میں نہ صرف امریکی مفادات بلکہ اس کے بہت سارے فوجی  اہلکار بھی خطرے میں ہیں۔

ان تمام باتوں کی باوجود اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا امریکہ اور اس کے اتحادی، عالمی سلامتی کی فراہمی کیلئے اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس سوال کے جواب کو ہم آنے والے دنوں میں دے سکتے ہیں۔
**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 10 =