آبنائے ہرمز امن منصوبے کا مقصد خطے میں طویل المدت سلامتی کا قیام ہے: صدر روحانی

تہران، ارنا - ایرانی صدر نے نیو یارک دورے پر روانگی سے پہلے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں طویل المدت امن چاہتا ہے اسی لئے ہم خلیج فارس میں مشترکہ تعاون بڑھانے کے لئے آبنائے ہرمز امن کا منصوبہ پیش کرنے جارہے ہیں.

ان خیالات کا اظہار "حسن روحانی" نے پیر کے روز نیویارک کے دورے سے پہلے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں ںے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 74ویں نشست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منعقد ہونے والے اجلاس میں ایران کے خلاف امریکی ظالمانہ اقدامات اور علاقے کے مسائل اور مشکلات کی وضاحت کی جائے گی.
صدر روحانی نے دورے نیویارک کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ امریکی حکام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 74ویں نشست میں ایرانی وفد کی شرکت نہیں چاہتے تھے کیونکہ وہ حقیقت کو واضح کرنے سے خوفزدہ ہیں.
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایک بار پھر ایران مخالف پابندیوں کی تجدید کی ہے جس کا مطلب امریکہ کی مکمل مایوسی کی علامت ہے.
انہوں ںے مزید کہا کہ امریکہ کے زیادہ سے زیادہ دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی ناکام ہوگیا ہے کیونکہ ایرانی عوام بھرپور طاقت سے مزاحمت کر رہے ہیں.
ایرانی صدر نے کہا کہ ہم منعقد ہونے والے اجلاس میں علاقے میں قیام امن کے منصوبے کو پیش کریں گے اور خلیج فارس کے خطے میں اجتماعی تعاون کی ضرورت ہے. اس منصوبے کا نام آبنائے ہرمز کی سلامتی اور امید اتحادی ہے، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے ممالک خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے اس اتحادی کی شمولیت کی دعوت دی گئی ہیں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں طویل المدت قیام امن چاہتا ہے اور اقوام متحدہ کی موجودگی میں ایک ڈائیلاگ فورم کی شرکت کے لئے تیار ہے.
انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ علاقائی مسائل کا حل اس کے اندر پر منحصر ہے اور اجنبیوں ہرگز علاقے کی سلامتی کو فراہم نہیں کرسکتی ہیں.
انہوں ںے مزید کہا کہ ہم بہت ہی خوش ہیں کہ امریکہ آج تنہائی کا شکار ہے اور تمام ممالک اس کے ظالمانہ اقدامات کی مذمت کر رہے ہیں.
تفصیلات کے مطابق، ایرانی صدر "حسن روحانی" اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے74ویں اجلاس میں شرکت کے لئے آج بروز پیر نیویارک روانہ ہوگئے.
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 5 =