امریکہ، پابندیوں کے ذریعے مذاکرات کو ناممکن بنارہا ہے: ظریف

بیجنگ، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ، ایران کیخلاف پابندیاں عائد کرنے کے ذریعے مذاکرات کو ناممکن بنانا چاہتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے برطانوی زبان چینی نیوز چینل "سی جی تی این" کیساتھ انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے پاس کوئی اور آپشن موجود نہیں ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی بھی نہیں چلے گی۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حالیہ ڈرون حملے کے بعد واشنگٹن اور ریاض نے ان حلموں میں ملوث ہونے کا الزام ایران پر لگایا جس کے نتیجے میں امریکہ نے جمعہ کے روز ایرانی مرکزی بینک اور قومی ترقیاتی فنڈ کیخلاف پابندیاں عائد کی۔

چینی نیوز چینل کے مطابق ایران نے ان حملوں میں ملوث ہونے کے الزام کو سختی سے تردید کی ہے اور یمنی حوثیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے سی جی تی این نیوز چینل کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کے نئے اقدامات کی تنقید کی۔

انہوں نے امریکہ کے نئے اقدامات پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ ہم نے امریکی نئی پابندیوں سے پہلے ملک کی معاشی صورتحال میں استحکام لائی تھی۔

ظریف نے مزید کہا کہ امریکی اقدامات نے ایران کیخلاف عائد پابندیوں کو اٹھانے کا ناممکن بنادیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکام، اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ مذاکرات کو ناممکن بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کو ہٹانا ٹرمپ اور نائب امریکی صدر کیلئے انتہائی دشوار ہے۔

*274**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 5 =