بین التہاذیب مکالمہ، دنیا کو جنگوں سے پاک کرنے کا موثر نسخہ

تہران، ارنا-  21 ستمبر 2001ء میں اسلامی جمہوریہ ایران نے دنیا کے تمام قوموں کے درمیان امن اور دوستی برقرار کرنے کے مقصد سے تہذیبوں کا مکالمے کی تجویز دی جس کو بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ نے خیر مقدم کیا۔

ایرانی کلینڈر میں 21 ستمبر کو "تہذیبوں کا مکالمہ" کے دن کا نام دیا گیا ہے اور ایران کجیانب سے تہذیبوں کا مکالمے کی تجویز کو اتنی اہمیت حاصل تھی کہ اقوام متحدہ نے سنہ 2001 کو باضابطہ طور تہذیبوں کا مکالمہ کے سال کا نام دیا۔

موجودہ صورتحاال میں تہذیبوں کا مکالمے کی تجویز پر توجہ دینے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی بہت بڑی اہمیت ہے۔

در اصل تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو مختلف قوموں اور حکومتوں کے درمیان قریبی تعللقات برقرار کرنے اور ان کے تعلقات کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں انتہائی اہم کردار حاصل ہے۔

ثقافتی شعبوں میں ایسی مشترکات ہیں جن کو سیاسی میدان میں زیادہ اثر و رسوخ رکھتی ہیں اور دنیا میں بہت سے منفی واقعات جیسے جنگوں اور دیگر غیر انسانی اقدامات کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

موجودہ صورتحال میں میں جہاں مشرق وسطی اور جنوب مغربی ایشیا کے خطوں سمیت بہت ساری قوموں کو فوجی، فرقہ وارانہ اور معاشی جنگوں کا شکار ہیں تو ایسے وقت تہذیبوں کے مابین مکالمے کی تجویز کی طرف لوٹنا اور اقوام، ثقافتوں اور تہذیبوں کے مابین مکالمہ کے ناقابل تردید کردار پر توجہ دینا، دنیا کو جنگ کی آگ اور غالب طاقتوں کی جارحیت اور غنڈہ گردی سے بچانے کا نہایت موثر اور واحد راستہ ہے۔

موجودہ صورتحال میں جب یکطرفہ اقدامات، اقوام کے حقوق کی بےعزتی اورعدم اعتماد کو بڑھاوا دینے کی وجہ سے یمن، افغانستان، شام اورعراق جیسے ممالک میں جنگ، قتل عام، خونریزی اور ان جیسے غیر انسانی اقدامات وقوع پذیر ہوگئے ہیں تو ترقی پذیر ممالک کو اسحلے کی فروخت کیلئے فوجی اتحادوں کی تشکیل اور ان ممالک کے توانائی ذخائر پر قبضہ پانے کی تلاش نہ صرف ایک حل ہے بلکہ آگ پر گیس بہانے کے مترادف ہے۔

انسان اور انسانیت کو نہ جنگ کے سیل سینٹرز اور نہ ہی فوجی اتحادوں کی تشکیل اور نہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کی ضرورت ہے بلکہ اسے بلکہ تہذیبوں کے مابین مکالمے کے خالص نظریہ اور اس نظریہ کی بنا پر دنیا کے موجودہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس عنقریب نیویارک میں منعقد ہوگا جو اس اعلی بین الاقوامی تنظیم میں ایک بار پھر تہذیبوں کے مکالمے پر توجہ دینے کا ایک بہت اچھا موقع ہے۔

*274**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 8 =