سیاحت کے فروغ سے ایران اور پاکستان کے عوام کو قریب لایا جاسکتا ہے

اسلام آباد، ارنا - ہر سال ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی مذھبی اور ثقافتی مقصد کے لئے ایران کا سفر کرتے ہیں جس سے ہمیں یہ بات پتہ چلتی ہے کہ دونوں ممالک کے لوگوں کو سیاحت کے فروغ سے قریب لانے میں مدد مل سکتی ہے.

یہ بات پاکستانی ٹور آپریٹرز اور ٹریول ایجنٹس کی ایک نشست میں جو ہفتہ کے روز پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم ایرانی سفارتخانے میں ہوئی تھی، اس بات کا جائزہ لیا گیا.
اس نشست کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مذہبی اور طبی شعبے میں سیاحت کو فروغ دیا جائے.


اس موقع پر پاکستان میں ایرانی سفیر «مہدی ہنردوست»، ناظم الامور، سفارتخانے کے حکام اور بعض پاکستانی سنیئر صحافی بھی موجود تھے.
ایرانی سفیر نے کہا کہ ہر سال پاکستان سے ایران جانے والے زائرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور پیچھلے سال ہم نے تقریبا ساڑھے تین لاکھ ویزے جاری کئے تھے.
انہوں نے مزید کہا کہ سفارتخانہ صرف 15 یورو ویزا فیس لیتا ہے جو کہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے. ہم یہ سب کچھ اس لئے کررہے ہیں تا کہ ہمارے پاکستانی بھائی اور بہن بغیر کسی مشکل کے ایران کا سفر کریں اور انھیں زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جاسکیں.
مہدی ہنردوست نے کہا کہ ہم نے ویکسینشن کے ان او سی کی شرط کو بھی ختم کردیا کیونکہ ہمارے نزدیک ایک غیر ضروری اقدام تھا.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی ٹور آپریٹرز اور ٹریول ایجنٹس کو چاہئے کہ ایران کا سفر کریں اور ایرانی قوم کی میزبانی کا تجربہ کریں.
ہنردوست نے مزید کہا کہ ایرانی سفارتخانے کا ویزا سیکشن پاکستانی شہریوں کے لئے جلد 24 گھنٹے کی سروسز شروع کردے گا.
انہوں ںے کہا کہ ہم اتنی بڑی تعداد میں ویزے جاری کرتے ہیں جس پر تہران میں ہمارے حکام کو اعتراض ہے کیونکہ ایران اور پاکستان انسانی سمگلنگ ایک ٹرانزٹ لائن پر موجود ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ جتنا زیادہ پاکستانیوں کو سہولت فراہم کریں اتنا ہی دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں گے.
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ہمارے سفارتخانے کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں اور اگر پاکستانی زائرین اور سیاحوں کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ اپنی شکایات پہنچا سکتے ہیں.


انہوں نے کہا کہ ایران میں طبی شعبے میں سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں جنہیں پاکستانی لوگوں سے روشناس کرانا ہوگا جبکہ خلیج فارس کے اکثر ممالک کے عوام طبی سہولیات کے لئے ایران کا رخ کرتے ہیں. لہذا ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام بھی ان سنہری مواقع سے فائدہ اٹھائیں.
اس موقع پر ایرانی سفارتخانے کے ویزا سیکشن کے سربراہ نے کہا کہ ہم زیادہ سے زیادہ ویزے جاری کرنا چاہتے ہیں تاہم ہمارے کچھ قوانین ہیں جن پر عمل کرنا ناگزیر ہے.
انہوں ںے مزید کہا کہ پاکستان میں ایرانی سفارتخانے اور چار قونصل خانوں کے ویزا جاری کرنے کا طریقہ کار میں کوئی فرق نہیں ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 11 =