امریکہ کیلئے عربوں کا خون نہیں تیل اہم ہے: ایرانی وزیرخارجہ

تہران، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے یمن کے خلاف جاری امریکہ کی زیرسرپرستی سعودی جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکیوں کے نزدیک عربوں کے خون سے زیادہ ان کا تیل اہم ہے.

یہ بات محمد جواد ظریف نے آج بروز جمعہ ٹوئٹر میں اپنے ذاتی پیج میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ یمن کی جنگ سے متعلق امریکی پالیسی سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ واشنگٹن کی اہم ترجیح عربوں ہے نہ خون۔

ظریف نے کہا کہ گزشتہ 4 سالوں کے دوران یمن پر اندھا دھند بمباری کرنا، 100 ہزار افراد جان بحق ہونا، 20 ملین یمنی عوام قحطی اور قلت غذا اور 2.3 ملین افراد ہیضے میں شکار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ یمن میں ایسے غیر انسانی اقدامات کے لیے مجرموں اور قاتلوں کو مکمل اختیار دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے گذشتہ روز سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد سعودی تیل تنصیبات کے حملے کا الزام ایران پر عائد کیا ہے اور اس کو ایک 'جنگی اقدام' قرار دیا۔

محمد جواد ظریف» نے گزشتہ روز امریکی ٹی وی چینل سی این این کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کہ ایران خطی تنازعات میں نہ پڑنے کے لئے پرامید ہے بلکہ اپنے علاقائی حریفوں بشمول امارات کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے تاہم امریکہ سے مذاکرات کا امکان نہیں جب تک وہ جوہری معاہدے کے تحت ایران مخالف پابندیوں کا خاتمہ نہ کرے.

انہوں نے سعودی تیل تنصیبات پر حالیہ حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے، ایران پر امریکہ اور عربستان کے ممکنہ حملے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران پر جارحیت کی صورت میں خطے میں کھلی جنگ ہوگی جس کی وجہ سے سعودی عرب کو آخری "امریکی سپاہی کے زندہ ہونے تک لڑنا ہوگا.

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ انہوں نے واضح پر وطن عزیز کے دفاع پر بیان دیا ہے اور اس بات کی بھی وضاحت کرتے ہیں کہ ایران خطے میں کسی فوجی محاذ آرائی میں نہیں پڑنا چاہتا تاہم ملکی دفاع کے لئے کسی بھی حد تک جائیں گے.

9410*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 6 =