امریکہ اگر مذاکرات چاہتا ہے تو ایران سے دباؤ ہٹائے: صدر روحانی

تہران، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکی انتظامیہ ہمارے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ہے تو انھیں سب سے پہلے چاہئے کہ ایران پر سے دباؤ ختم کریں.

ایرانی صدر ڈاکٹر روحانی جو آئندہ دنوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کی شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ کریں گے، نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ نے امریکہ، زیادہ سے زیادہ دباو کی پالیسی سے ہرگز اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا.
انہوں نے امریکی حکام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کیساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو ایران مخالف تمام دبا‎ؤ کو روک کرے.
روحانی نے کہا کہ کوئی ملک زیادہ سے زیادہ دباو کے ساتھ مذاکرات کرنے کا خواہاں نہ ہوگا پھر اگر امریکی حکام واقعی خیرخواہ اور پشیمان ہیں تو انہیں اپنی صداقت اور اخلاص کو مظاہرہ کر کے ایرانی عظیم عوام کے خلاف ظلم اور دباو کا خاتمہ کرنا چاہیے.
روحانی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایرانی سپریم لیڈر کے گزشتہ روز کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قائد انقلاب نے منگل کے روز فرمایا کہ اگر امریکہ اپنی باتیں واپس لے، توبہ کرے اور جوہری معاہدے میں واپس آئے تب اس معاہدے کے باقی رکن ممالک کی موجودگی جو ایران سے بات چیت کرتے ہیں، اس میں امریکہ بھی شریک ہوسکتا ہے دوسری صورت میں ایرانی حکام اور امریکیوں کے درمیان نہ نیو یارک اور نہ ہی کسی اور جگہ کسی بھی سطح پر مذاکرات نہیں ہوں گے.
صدر روحانی نے مزید بتایا کہ ایران اور روس کے درمیان بینکی تعلقات کا آغاز ہو چکا ہے.
انہوں نے کہا کہ رقوم کے ترسیل کے نظام ' سوئفٹ 'کے لیے موجودہ متبادل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم آئندہ میں روس، یوریشین ممالک اور خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ بینکاری تعلقات کے فروغ کے لیے ایک نئے انداز کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ دنیا میں امریکی ڈالر کی حاکمیت کے ساتھ نئی لڑائی کا آغاز ہو چکا ہے اور ہم ترکی، روس اور عراق جیسے ممالک کے ساتھ قومی کرنسی کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں جس اقدام سے ہم بہت سے مسائل پر قابوکر سکتے ہیں.
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ڈالر کی اجارہ داری کی کمی، دنیا میں مالیاتی اور بینکی مارکیٹوں پر امریکی تسلط کو خاتمہ دے سکتی ہے.
9410٭274٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 16 =