ایران کا سعودی تیل تنصیبات سے متعلق امریکی الزامات پر کرارہ جواب

لندن، ارنا - ویانا میں قائم عالمی اداروں میں تعینات ایران کے مستقل مندوب نے سعودی تیل تنصیبات پر حالیہ حملوں میں ایران کے ملوث ہونے سے متعلق امریکی وزیر توانائی کے من گھڑت الزامات کا کرارہ جواب دے دیا.

یہ بات "کاظم غریب آبادی" نے گزشتہ روز ویانا میں عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جنرل کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی.
ایرانی مندوب نے بتایا کہ زیادہ سے زیادہ دباو بڑھانے کی پالیسی میں شسکت کے بعد اب امریکہ زیادہ سے زیادہ دھوکہ دینے کی پالیسی پر گامزن ہے.
انہوں نے کہا کہ امریکی نمائندہ ایک بیوقوفانہ منطق بڑھتے ہوئے دھوکہ دینے کی پالیسی کا استعمال کر رہا ہے.
غریب آبادی نے کہا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ خطے کو خطرناک دھمکیوں دینے کے علاوہ فوجی مداخلت کرکے یمن کے دشمنوں کو مختلف ہٹھیار فروخت کر رہا ہے.
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور دوسرے ممالک جو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں یمن پر جارحیت پسند اتحاد کی حمایتوں سے دریغ نہیں کرکے انسانی مقاصد سمیت اسکولز، ہسپٹالز، مساجد، منڈی، شادی اور جنازے کی تقریب پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ ساتھی ہیں.
انہوں ںے ایرانی وزیر خارجہ کے حالیہ پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف مزید دباؤ ڈالنے کی پالیسی کی ناکامی کے بعد اب پمپیو نے سب سے زیادہ دھوکہ دینے کا رویہ اختیار کیا ہے۔
ایرانی مندوب نے کہا کہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ سعودی عرب اپنے اندرونی مسائل اور ناکامیوں کو چھپانے کے لئے جنگ اور تنازعات سے استعمال کر رہا ہے.
انہوں ںے کہا کہ سعودی عرب اور ان کے اتحادی نے بار بار ثابت کردیا کہ اپنے منفی عزائم اور مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کوئی حملے اور جنگی جرائم سمیت بے گناہ خواتین اور بچوں کو قتل عام کرنے سے دریغ نہیں کر رہے ہیں.
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو کی دو آئل فیلڈز پر حالیہ دنوں میں ڈرون حملے ہوئے جس کے نتیجے میں تیل کی پیداوار نصف رہ گئی ہے تا ہم ان حملوں کا الزام امریکہ نے ایران پر عائد کیا ہے جس کے بعد اب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے پہلا بیان جاری کر دیا ہے۔
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 4 =