ایرانی صدر کا شام کی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور

تہران، ارنا - ایرانی صدر نے شام میں قیام امن سے متعلق آستانہ عمل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کی جغرافیائی سالمیت اور قومی خودمختاری کا احترام کریں.

یہ بات "حسن روحانی" نے گزشتہ روز ترکی میں منعقدہ تین فریقی سربراہی اجلاس کے خاتمے کے موقع پر ایران، روس اور ترکی کے صدور کی پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ نشست ایک بار پھر آستانہ کے مذاکرات کے مطابق اپنی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لئے ایک مناسب موقع تھی جس میں شام کی سیاسی اور میدانی تبدیلیوں پر مذاکرات کئے گئے.
صدر روحانی نے کہا کہ خوش قسمتی سے اسلامی جمہوریہ ایران، ترکی اور روس شامی مسائل کے حل سمیت اس ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ پر متفق ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 9 سالوں سے شام دہشتگردوں کے حملوں کا شکار ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کون ان کو پیسہ دیتا ہے اور شامی عوام کو کون سا ملک کے ہتھیاروں کے ساتھ مار کئے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب شامی حکومت کی دعوت کے بغیر اس ملک میں غیرملکی فورسز سمیت امریکیوں کی موجودگی اور مداخلت کے ساتھ مخالف ہیں.
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکہ دہشتگردوں کی مدد کے علاوہ شام میں خطرناک مقاصد کو پیچھا کر رہا ہے کیونکہ وہ اس ملک کی تقسیم چاہتا ہے.
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، روس اور ترکی کے لئے امریکیوں کے غلطی عزائم قابل قبول نہیں ہے اور شام کی علاقائی سالمیت کا تحفظ ہمارے لئے نہایت اہم ہے.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ شامی عوام کی شکست کے لئے کاروائی کرتا ہے اور ناجائز صہیونی ریاست ہر روز اپنی مداخلت کے ساتھ شام کی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے جسے اس ملک کی قومی حکمرانی سے متصادم ہے.
صدر روحانی نے کہا کہ شامی پناہ گزینوں کی واپسی بہت ہی اہم ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس حوالے سے زیادہ تجربات کا صاحب ہے کیونکہ ہمارا ملک گزشتہ 40 سالوں سے تین ملین سے زائد افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے.
انہوں نے کہا کہ ہم بہت خوش ہیں کہ تہران ایران، روس اور ترکی کے سہ فریقی سربراہی چھٹے اجلاس کی میزبانی کرے گا.
تفصیلات کے مطابق ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں شام سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران، روس اور ترکی کے درمیان سہ فریقی سربراہی اجلاس کا انعقاد کیا گیا ہے۔
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 9 =