یمنی بحران کے خاتمے کیلئے ایرانی تجاویز پر عمل ناگزیر ہے: ظریف

تہران، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو قصوروار سمجھنے کے ذریعے نہیں بلکہ اس کی تجاویز کو تسلیم کرنے کے ذریعے یمنی بحران کا خاتمہ ہوگا۔

"محمد جواد ظریف" نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں مزید کہا کہ ایران کیخلاف مزید دباؤ ڈالنے کی پالیسی کی ناکامی کے بعد اب پمپیو نے سب سے زیادہ دھوکہ دینے کا رویہ اختیار کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یمن میں پھنس کر رہ گئے ہیں کیونکہ امریکہ کا خیال تھا کہ ہتھیاروں کی برتری اسے فوجی فتح دلا ئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران پر الزام تراشی سے تباہی ختم نہیں ہوگی، جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کیلئے 15 اپریل کو ایران کیجانب سے  پیش کی گئی  تجویز کو ماننے سے یمنی بحران کا حل کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یمن کے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود امریکہ بضد ہے کہ یہ حملے ایران کی جانب سے کئے گئے ہیں تاہم اب ایران نے بھی ان حملے سے لاتعلقی کا اعلاان کرتے ہوئے امریکی الزامات کی تردید کردی ہے۔

 یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو کی دو آئل فیلڈز پر گزشتہ روز ڈرون حملے ہوئے جس کے نتیجے میں تیل کی پیداوار نصف رہ گئی ہے تا ہم ان حملوں کا الزام امریکہ نے ایران پر عائد کیا ہے جس کے بعد اب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے پہلا بیان جاری کر دیا ہے۔
*274**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 2 =