ایران میں خاتون فلمسازوں کی نسل کی تبدیلی میں اسلامی انقلاب کا کردار

تہران، ارنا- ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی، نظام حکومت میں سیاسی تبدیلی پیدا کرنے کے علاوہ معاشرے کی ثقافتی حالات بالخصوص سینما کی صنعت میں بھی تبدیلی کا باعث بنی۔

ایرانی معاشرے کے مختلف شعبوں بشمول فلمسازی صنعت میں خواتین کی موجودگی، اسلامی انقلاب کے بعد ملک میں اہم تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔

پچھلے سینما کی صنعت میں صرف کچھ خاتون فلسمازوں کے نام نظر آرہے تھے جبکہ اسلامی انقلاب کے بعد بہت سی ایرانی خواتین ملک میں بحثیت ہدایتکار کے کردار ادا کررہی ہیں-

اسلامی انقلاب سے پہلے  ایران میں "شہلا ریاحی" کو ملک کی سب سے خاتون فلم ساز کے طور پر جانتے ہیں جو "مرجان Marjan" فلم میں کردار ادا کررہی تھی اگرچہ "احمد شیرازی" نے مرجان فلم کی ہدایتکاری کی ہے لیکن چونکہ اس زمانے میں ہدایتکاری سے مراد وہی فلم میں کردار ادا کرنا تھا تو بہت سے لوگ شہلا ریاحی کو بحثیت ایران کی سب سے پہلی خاتون ہدایتکار پہچانتے ہیں حالانکہ صحیح معنی میں وہ فلم مرجان کی اداکارہ ہے تا کہ اس فلم کی ہدایتکار۔

دوسری ایرانی خاتون فلم ساز "مروا نیلی" ہے جنہوں نے اسلامی انقلاب سے پہلے ایک فلم بنائی ہے جو ابھی دستیاب نہیں ہے۔

لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد دیڑھے دیڑھے معاشرے اور بالخصوص سینما کی صنعت میں خواتین کے موثر موجودگی کیلئے راستہ ہموار ہوگیا۔

اسلامی انقلاب کے بعد نامور ایرانی خاتون فلسمازوں کا مختصر تعارف

پوران درخشندہ

 پوران درخشندہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے سب سے نامور ہدایتکاروں میں سے ایک ہے جنہوں نے اپنی پہلی بنائی گئی فلم "Little Bird of Happiness" کو 1366 کے شمسی سال میں بنائی جس کو قومی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

پوران درخشندہ نے سب سے پہلی ایران کی سرکاری ٹی وی کیلئے دستاویزی فلم بنائی اور اسلامی انقلاب کے بعد بھی معاشرے کے حوالے سے دستاویزی فلم بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔

ان کی دستاویزی فلموں کی کهانی زیاده تر معاشره اور خاندانی مسائل پر مبنی ہے جن میں سے Springs of Sanghestan Valley ، End Wednesday، Gelim  Revolve،  Dandelions for My Sister ، Six Brides for Ameneh ، Rasul، A Little Hercule اور Shobo from Sunset til Sunset کا نام لیا جاسکتے ہیں۔

پوران درخشندہ امریکی ایسوسی ایشن آف فیمیل فلم میکرز (WIF) ، امریکن انڈیپنڈنٹ ڈائریکٹرز (IFP) اور یونیسکو کے انٹرنیشنل چلڈرن اینڈ یوتھ فلم سنٹر (CIFEJ) کی رکن بھی ہیں۔

رخشان بنی اعتماد

رخشان بنی اعتماد نے تہران اسکول آف ڈرامائی آرٹس میں فلم ہدایتکاری کی تعلیم حاصل کی اور 1352 کے شمسی سال میں سینما کی صنعت میں قدم رکھی ۔

انہوں نے ابتدا میں چند مختصر دستاویزی فلم بنائی اور پھر 1360 کے شمسی سال میں طویل فلم بنانے کا اغاز کیا۔

رخشان بنی اعتماد کی فلموں کو مختلف بین الاقوامی فلم فیسٹول میں ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ان کی بنائی گئی فلم  Tales کو 2014 عیسوی سال میں اٹلی میں منعقدہ 71 ویں ونیز فلم میلے میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔

رخشان بنی اعتماد کی بنائی گئی اہم فلموں میں سے  Gilaneh ، Under the Skin of the City، Mainline ، Baran and the Native، Heiran ،The Blue-Veiled، Foreign Currency اور Canary Yellow کا نام لیا جاسکتے ہیں۔

مرضیہ برومند

 ہدایتکاری سے پہلے تھیٹر کی اداکارہ کے طور پر کردار ادا کر رہی تھی اور اس کے بعد انہوں نے بچوں کیلئے سینما کی صنعت میں انتہائی قابل قدر اقدامات اٹھائے اور بہت عالی شان فلمیں بھی بنائی جن میں سے سب اہم نامور فلم The School of Mice ہے۔

تہمینہ میلانی

 ایرانی شہر تبریز سے تعلق رکھنے والی خاتون فلم ساز تہمینہ میلانے نے نوجوانی میں فلمسازی کے میدان میں قدم رکھا۔

میلانی کی بنائی گئی فلمیں اکثر خواتین کی زندگی اور خواتین کے حقوق سے متعلق ہیں۔

میلانی کی بنائی گئی فلموں میں سے  Children of Divorce، What Else Is New ،Kakadu ،Two Women ،The Hidden Half ، The Fifth Reaction ، Cease Fire Settling Scores  Superstar ،One of Our Two  کا نام لیا جاسکتے ہیں۔

 نرگس آبیار

انہوں نے فارسی زبان اور داب میں اپنی تعلیم مکمل کی ہے اور  1376 کے شمسی سال میں کہانی لکھنے کا آغاز کیا اور ان کی لکھی گئی کہانیاں زیادہ تر نوجوانوں کیلئے تھیں۔

نرگس آبیار نے  1384 کے شمسی سال میں سینما کی صنعت میں قدم رکھا اور دستاویزی اور مختصر فلموں سمیت 4 طویل فلمیں بھی بنائی۔

ان کی سب سے اہم بنائی گئی فلموں میں سے Objects in Mirror ،Breath ،When the Moon Was Full کا نام لیا جاسکتے ہیں۔

تینا پاکروان، منیژہ حکمت، انسیه شاه‌حسینی، نیکی کریمی، مونا زندحقیقی، پریسا بخت‌آور، نگار آذربایجانی، پگاه آهنگرانی، آناهیتا قزوینی‌زاده، آیدا پناهنده، آزیتا موگویی، مانلی شجاعی‌فر اور شالیزه عارف‌پور بھی دیگر ایرانی خاتون فلمساز ہیں جہنوں ایرانی سینما کی صنعت میں انتہائی قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 4 =