یوریشین یونین مارکیٹ، ایرانی تاجروں کیلئے ترقی کا نیا باب

تہران، ارنا- یوریشن یونین اور ایران کیساتھ آزاد تجارتی معاہدے سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے ضروری انفراسٹرکچر کی فراہمی پر ایران کے پاس دومہینے سے کم وقت باقی ہے تا کہ برآمدات پر مبنی پیداوار میں اضافے کیساتھ یوریشین یونین کے رکن ممالک اور ایران کے درمیان تجارتی توازن کو اپنے حق میں بڑھادے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ایران کے وزرائے توانائی اور خارجہ کے دورہ روس کے دوران، یوریشین معاشی یونین میں اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔

ماسکو میں ایران اور روس کے وزرائے توانائی کے درمیان حالیہ ملاقات کے بعد ایرانی وزیر توانائی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران 28 اکتبر کو باضابطہ طور پر یوریشین یونین کا رکن بن جائے گا۔

البتہ یہاں یوریشین یونین میں ایران کی شمولیت اہم بات نہیں بلکہ اصل بات اسلامی جمہوریہ ایران اور یوریشین یونین کے رکن ممالک کے درمیان آزاد تجارتی علاقے کے قیام سے متعلق عبوری معاہدہ طے پانا ہے۔

اس سلسلے میں ایران کی تجارتی ترقی کے سربراہ نے کہا کہ معاشی یونین میں رکنیت کا مطلب اس یونین کے معاشی کمیشن سمیت اس کے اقتصادی، مالی اور تجارتی فیصلوں پر عمل پیرا ہونا اور تیسرے ممالک پر ٹیرف اور مشترکہ تجارتی پالیسیاں عائد کرنا ہے لیکن یہ سب بالکل ایران کی پالیسی میں نہیں ہیں۔

 ایرانی حکام کے مطابق کوئی ایک سال بعد اسلامی جمہوریہ ایران اور یوریشیا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیا جاتا ہے اور تین سال گزرنے کے بعد تمام مصنوعات پر ٹیرف کی کمی عائد کی جاتی ہے۔

 آزاد تجارتی معاہدہ طے پانے سے ایران کیلئے بہت سے مثبت نتایج برآمد ہوجائیں گے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران اگلے سال معاشی پابندیوں سے آزاد ہو جائے گا تو ایسی صورت میں توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ایک قابل ذکر معاشی ترقی کی راہ پر چڑھ جائےگا.

 کیونکہ تمام مغربی ممالک اس سے ہر ممکن فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں یورپ براہ راست ایران میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہا ہے جبکہ چین اور بھارت کی ایران کے ذرائع نقل و حمل کی تعمیر بنیادی ڈھانچہ اور پراپرٹی کےلین دین میں دلچسبی نہایت اہمیت کی حامل ہے.

 چین خاص طور پر پاک ایران گیس پائپ لائن کا حصہ بن کر اپنے مقصد تک رسائی چاہتا ہے اور اسی طرح بھارت چابہار میں اپنی سرمایہ کاری اور زیر سمندر ایران بھارت گیس پائپ لائن منصوبے کو پایا تکمیل تک پہنچانے کا خواہش مند ہے اگرچہ نئی دہلی اور تہران کی باہمی تجارت کے لئے پاکستان کے زمینی راستے موجود ہیں تاہم کچھ سیاسی وجوہات کی بنا پر انہیں پایا تکمیل تک پہنچانا دشوار ہے اس لئے ایران اور سارک رہنما بھارت کے تجارتی تعلقات کے اہداف کو سمندری راستوں سے پورا کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یوریشین اقتصادی یونین ایک بین الاقوامی معاشی تنظیم ہے جس کا مقصد کونسل میں شامل ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہوئے ہوئے ان کے درمیان معاشی تعاون میں مضبوطی لانا ہے تاکہ وہ عالمی منڈی میں مشترکہ طور پر سبقت لے سکیں۔

 ابتدائی طور پر انیس سو پچانوے میں روس، بیلاروس اور قازقستان نے کسٹمز یونین کی بنیاد پر مشترکہ انضمامی معاہدہ اختیار کیا۔ اس کے بعد یونین میں آرمینیا اور کرغیزستان بھی شامل ہوگئے۔ ابتدا میں یہ یونین 2014 میں دنیا کے سامنے آئی۔

 سابقہ کسٹمز یونین میں بہتری لا کر ممبر ممالک کے درمیان مربوط معاشی تعلق کو مزید گہرا کیا گیا تاکہ آزادانہ تجارت اور ممبر ممالک کے درمیان اشیاء و خدمات کی منڈی میں مقابلہ سازی کو فروغ دیا جائے۔

 دراصل یہ یوریشین اقتصادی یونین، یک قطبی امریکی گلوبلائزیشن اور یورپی یونین میں یورپی کمیشن کی آمریت کی متبادل ہے کیونکہ اس کی بنیادہی کثیر قطبیت پر استوار کی گئی ہے اور اس میں تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں۔

گزشتہ پانچ سالوں میں اقتصادی یونین کے ممالک نے معاشی تعاون کے قابل ذکر نتائج حاصل کیے ہیں۔

 انضمام سے بڑے پیمانے پر مثبت معاشی اثرات مرتب ہوئے ہیں، اس میں نئے ممالک کی شمولیت سے منڈی میں مقابلہ کی فضا قائم ہوئی اور اشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی اور نتیجے کے طور پر ممبر ممالک کی عوام کی فلاح و بہبود ہوئی (برآمداتی اشیاء یا خام مال کی قیمتوں میں کمی ہوئی)۔ بعد ازاں شہریوں کی اجرت میں اضافہ ہوا اور اشیا کی طلب میں اضافے کی وجہ سے پیدواری میں بھی اضافہ ہوا۔
**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 3 =