میل رادکان ٹاور: نامور ایرانی فلسفی کا یادگار اور دیرپا اثر

تہران، ارنا – "میل رادکان" ٹاور نامور ایرانی فلسفی، سائنسدان، ریاضی دان اور ماہر فلکیات "خواجہ نصرالدین توسی" کا یادگار اور دیرپا اثر ہے جو واحد ٹاور ہے کہ چار موسموں، سال کبیسہ اور نوروز کے آغاز کی تعیین کی صلاحیت رکھتا ہے.

رادکان ٹاور ایلخانی دور کے بادشاہوں میں سے ایک مقبرہ کے طور پر سمجھا جاتا تھا.
رادکان ٹاور ایرانی صوبے خراسان رضوی کے علاقے چناران اور مشہد مقدس سے 80 کیلومیٹر کی دوری پر واقع ہے جو فلکیاتی شعبے میں صلاحیت رکھتا ہے.
اس ٹاور کی اونچائی 35 میٹر، اندرونی قطر 14 اور بیرونی قطر 20 میٹر ہے.


یادگار رادکان ٹاور میں دروازوں اور والوز کے مقام کا انتخاب حادثاتی نہیں ہے، دروازوں موسم سرما کا آغاز اور موسم گرما کے خاتمے پر تعمیر کئے گئے ہیں.
یہ ٹاور اپنی منفرد خصوصیات کے ساتھ ایرانیوں کے باعث فخر ہے اور ابھی تک تحقیقوں کے باوجود اس کی فلکیاتی شناخت کا صرف ایک حصہ سامنے آیا ہے۔


اس ٹاور کا جسم عام چینی اینٹ ہے اور اس میں اینٹوں اور پلاسٹر کی سجاوٹ ہے۔


رادکان ٹاور کا گنبد شنک کی شکل میں ہے جس کی تعمیر 607 ہجری قمری میں خاتمہ کی گئی ہے.
رادکان ٹاور ایران کے تاریخی اور تعمیراتی پرکشش مقامات میں سے ایک ہے جہاں بہت سے لوگ تشریف لائے اور گزرے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس کا نوٹس لے کر جس کے بارے میں کچھ خاص خیالات پیدا کیے ہیں۔
اس ٹاور کو 1931 کے 5 جنوری کو ایرانی قومی ثقافتی ورثے میں شامل کردیا گیا.
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 9 =